زکوۃ و نصاب زکوۃ

مسجد اور مدرسہ کے صحن میں کاشت شدہ اجناس پر عشر کا حکم

فتوی نمبر :
70765
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مسجد اور مدرسہ کے صحن میں کاشت شدہ اجناس پر عشر کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) مسجد و مدرسہ کے صحن میں جو کچھ کاشت ہو اس کا عشر نکالنا ضروری ہے یا نہیں؟
(۲) ضروری ہونے کی صورت میں کس کو دیا جائے؟
(۳) گھر کے اندر کاشت شدہ کا عشر ضروری ہے یا نہیں؟
(۴) زکوٰۃ وہ لے سکتا ہے جو خود صاحبِ نصاب نہ ہو کیا عشر بھی وہی آدمی لے سکتا ہے جو صاحب نصاب نہ ہو جبکہ عشر خود سے نکلتا ہو۔
(۵) گندم اناج کے تملیک کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
(۶) مہتمم مدرسہ کی پکی ہوئی روٹی کھاسکتا ہے؟
(۷) پھل مثلاً بیر، آم وغیرہ میں یہ ہوتا ہے کہ کبھی ایک دو توڑ لیا , کھالیا , کیا اس ایک دو کا بھی حساب کرکے عشر ادا کریں گے؟ اگر اس کا ادا کرنا ضروری ہے تو یہ مشکل ہے کہ پھل پک کر گِر جاتے ہیں یا توڑ لیا جاتا ہے پھر اس کا حساب میں رکھنا پھر مستحق کو اتنا تھوڑا سا دینا اور مستحق کو تلاش کرنا ؟ اس کی آسان صورت ہو تو بیان فرمادیں , کیا تھوڑی چیز میں بھی عشر ہے یا کوئی مقدار مقرر ہے؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمان

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب: (۱ – ۳) گھر یا مسجد ومدرسہ میں اُگائی ہوئی غیر معتد بہ کاشت میں عشر نہیں البتہ گھر اور مسجد و مدرسہ کے صحن بہت بڑے ہوں، اور ان میں باقاعدہ کھیتی باڑی کی جاتی ہو تو شرعاً اس میں بھی عشر لازم ہوگا۔
(۲ – ۴) جسے زکوٰۃ دینا جائز ہے اسے عشر دینا بھی جائز ہے، اور استحقاقِ زکوٰۃ اس شخص کو ہے جس کی ملکیت میں صدقہ فطر کے وجوب کے بقدر مال نہ ہو۔
(۵) تملیک کا طریقہ یہ ہے کہ عشر نکال کر باضابطہ طور پر کسی مستحق اور فقیر یا اس کے وکیل کو مالک بناکر اس کے قبضہ میں دے دیا جائے۔
(۶) اگر مدرسہ کا ضابطہ ہو اور کھانے میں غیر زکوٰۃ کی رقم بھی ملائی جاتی ہو تو کھاسکتا ہے، ورنہ نہیں۔
(۷) اس میں عشر نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: ویجب الخراج فی ارض الوقف خراجیة والعشر لو عشریة. (ج۴، ص۱۷۷)-
وفی الهندیة: ویجب العشر عند أبی حنیفةؒ فی كل ما تخرجه الارض من الحنطة والشعیر ..... قل او كثر. (ج۱، ص۱۸۴)-
وفی الدر: مصرف الزكوٰة والعشر هو فقیر من لا ادنی شیٔ ای دون نصاب او قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة ومسكین من لا شیٔ له. (ج۱ ص۳۳۹)-
وفی الدر: ویشترط ان یكون الصرف تملیكا (تحت قوله) تملیكا فلا یكفی فیها الاطعام الا بطریق التملیك ولو اطمعه عنده ناویا الزكوٰة لا تكفی. (ج۲، ص۳۴۴)-
وفی الشامیة: وفی شرح الملتقی عن المضمرات اذا اكل قلیلا بالمعروف لا شیٔ علیه قال الفقیه وبه نأخذ. (ج۲، ص۳۳۲) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70765کی تصدیق کریں
0     788
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات