زکوۃ و نصاب زکوۃ

میاں بیوی پر مشترکہ زکوٰۃ لازم ہوگی یا الگ الگ؟

فتوی نمبر :
70772
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

میاں بیوی پر مشترکہ زکوٰۃ لازم ہوگی یا الگ الگ؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس ساڑھے سات تولے سونا زیورات کی صورت میں ہے اور نقد کے اعتبار سے میں قرض دار بھی ہوں کہ کبھی کسی سے دو ہزار قرض لئے ہوتے ہیں اور کبھی کسی سے , میرے شوہرنے کچھ پیسے ادھار لیے ہوتے ہیں، اور کبھی میرے پاس دس ہزار کبھی پانچ ہزار پیسے ضرورت سے زائد بھی رکھے ہوتے ہیں اور کبھی خرچ کے پیسے بھی ہیں ہوتے، اور کبھی سال کے شروع میں تو پیسے ہوتے ہیں لیکن سال کے آخر میں یا تو کوئی قرض لے لیتا ہے یا میں خود کسی کو دے دیتی ہوں کہ اپنی ضرورت میں استعمال کرو، تو کیا ان سب مذکورہ صورتوں میں مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے؟
اور جو سونے کی صورت میں میرے زیورات ہیں , میرا ارادہ وہ اپنے بچوں کو دینے کا ہے اور میں نے اپنے بچوں سے کہا ہوا ہے کہ میرے زیورات میں سے ڈیڑھ دیڑھ تولہ سونا تمہارا ہے، لیکن ان کو استعمال میں ہی کرتی ہوں تو کیا ان زیورات میں مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے؟ کیونکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زیورات کو بچوں کے نام کرنے سے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، لیکن میں اپنے طور پر ہر مہینے دو سو روپے اور اس کے علاوہ کبھی پانچ ہزار اور کبھی کچھ پیسے جتنی سہولت سے ہوسکے صدقہ خیرات کرتی ہوں، لیکن لازمی طور پر پابندی سے ادا نہیں کرتی، تو مجھ پر زکوٰۃ کے معاملے میں کوئی آسانی ہے؟ کتنی مقدار کی زکوٰۃ نکالنا واجب ہے؟ کیونکہ میں اپنا سونا بیچنا نہیں چاہتی اور اگر بچوں کودوں تو کتنی عمر کے بچوں کے نام کرسکتی ہوں؟ کیونکہ میرے بچے ۷، ۹، ۱۱ اور ڈھائی سال کے اور کچھ بالغ بھی ہیں تو ان کو دینے یا ان کے نام کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟
میرا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پلاٹ خریدا ہے، لیکن اس کی رقم ابھی تک ادا نہیں ہوئی، بلکہ قسطوں پر ادائیگی جاری ہے تو ابھی تک ہم اس کے حقدار نہیں ہوئے اور اگر میں اپنے سارے زیورات بیچ دوں تب بھی اس کی قیمت ادا نہیں ہوسکتی اور اس کی قیمت کی ادائیگی میں کبھی قرض بھی لینے پڑتے ہیں تو کیا اس پر بھی زکوٰہ واجب ہوگی؟ اگر ہے تو اس کی کیا صورت ہوگی، کس طرح زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟
برائے مہربانی میرے دونوں مسئلوں کی مکمل تفصیلی وضاحت فرماکر میری الجھن کو جلدی دور کردیجئے۔ اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زکوٰۃ کے معاملہ میں میاں بیوی دونوں کا نصاب الگ شمار ہوتا ہے اس لئے سوال میں مذکور سونا اگر سائلہ کا ہو اور مکان بھی اسی نے اپنی ذات کیلئے خریدا ہو تب تو اس کی مد میں واجب الادا قرضے کو منہا کیا جائے گا ورنہ نہیں اسی طرح شوہر کے ذمہ واجب الادا دیگر قرضے سے بھی سائلہ کا نصاب متاثر نہیں ہوگا بلکہ بدستور واجب الادا رہے گا الّا یہ کہ سائلہ اپنے زیورات بچوں کو فی الفور ہبہ کردے اور اپنی ملکیت میں کچھ نہ رہنے دے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر: (واللازم) مبتدأ (فی مضروب علی) منهما (ومعموله ولو تبرا او حلیا مطلقا) مباح الاستعمال أولا ولو للتجمل والنفقة لأنهما خلقا أثمانا فیزكیهما كیف كان. الخ (ج۲، ص۲۹۸)-
وفیه ایضًا: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب لا مشغولا به) والأمل أن الموهوب ان مشغولا یملك الواهب منع تماها. الخ (ج۵، ص۶۹۰)-
وفی الشامیة: فان المدیون محتاج الی قضائه بما فی یده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذی هو كالهلاك وكآلات الحرقة. الخ (ج۲، ص ۲۶۲) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70772کی تصدیق کریں
0     722
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات