کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ کے والد صاحب کا تین منزلہ گھر ہے، زمینی منزل مجھے یہ کہہ کر دی ہے کہ چاہے تو اس میں مدرسہ کھولیں یا خود رہائش اختیار کریں، جبکہ اوپر والی دو منزلیں استعمال کرنے کی صورت میں کرایہ دینا پڑے گا۔
اب میں نے زمینی منزل میں مدرسہ کھولا ہے جس میں ناظرہ پڑھنے والے بچے اور درسِ نظامی پڑھنے والی چند لڑکیاں آتی ہیں، اور ان سے فیس بھی لی جاتی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا مدرسہ کے اخراجات (مثلاً طلبہ کی تعداد بڑھنے کی صورت میں اوپر والی منزل کرایہ پر لینا، اساتذہ کی تنخواہ وغیرہ اور اسیطرح پنکھے، لائٹس، یو پی ایس اور دیگر اشیاء کیلئے صدقات، عطیات اور زکوٰۃ وصول کرسکتا ہوں؟ اور وصول کرنے کی صورت میں مذکورہ مصارف میں خرچ کرسکتا ہوں؟
جواب: زکوٰۃ کی رقم مستحقین کو تملیک شرعی کے ساتھ دینا ضروری ہے اس کو تعمیر، تنخواہ اور مذکور دیگر مصارف میں براہِ راست صرف کرنا جائز نہیں البتہ نفلی خیرات و صدقات کو ان مصارف میں لگایا جاسکتا ہے۔
فی الدر: ویشترط أن یكون الصرف (تملیكا) لا إباحة كما مر (لا) یصرف (إلی بناء) الخ. (ج۲، ص۳۴۴) والله اعلم بالصواب