ایک آدمی زکوٰہ دینا چاہتا ہے ایسے بندے کو کہ وہ خود بھی روزگار پر ہے اور اس کا ایک بیٹا بھی روزگار پر ہے اور ایک بیٹا بے روزگار ہے، پانچ بچے ہیں باپ بیٹے کے کمانے کے باوجود گھر کا خرچہ پورا نہیں ہورہا، ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی شادی بھی کی ہے، بہو کا سونا ڈھائی تولہ ہے اور بیوی کے پاس سونا نہیں ہے، مالی تنگی بہت زیادہ ہے ایک بچہ ذہنی مریض ہے، اس کا دو کمرے کا مکان خستہ حالت میں ہے، اس آدمی پر قرضہ بھی ہے قرضہ اداکرنے کیلئے کوئی گنجائش نہیں مالی تنگی بہت زیادہ ہے اور بچے کو ہر ہفتے بعد ہسپتال لے جانا پڑتا ہے آیا یہ آدمی زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے جبکہ اس کی ملکیت ایک رہائشی مکان کے سوا نقدی، سونا، چاندی، جائیداد وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے اور قرضہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے ہے اور تنخواہ دس ہزار روپے ہے جس میں سے پانچ ہزار قرض کی ادائیگی اور پانچ ہزار سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے ہیں، سید بھی نہیں ہے اور مکان کے کاغذات بھی نقشہ میں درست نہیں ہیں، جس پر پینتیس ہزار کا خرچہ ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو اس صورت میں مذکور شخص مستحق زکوٰۃ ہے اس لئے اُسے زکوٰۃ یا دیگر صدقات واجبہ سے دینا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر: مصرف الزكوٰة والعشر (إلی قوله) (هو فقیر، وهو من له ادنٰی شیءٌ) أی دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام، مستغرق فی الحاجة. (ج۲، ص۳۳۹)
وفی الهندیة: ویجوز دفعها إلی من كان صحیحًا مكتسبًا. (ج۱، ص۱۸۹) والله تعالٰی اعلم