(۱) کیا زکوٰۃ کی رقم اس مسجد کو دی جاسکتی ہے جہاں مدرسہ بھی ہو اور ان دونوں کا اکاؤنٹ مشترک ہو۔
(۲) اور اس اکاؤنٹ میں قرضِ حسنہ کے طور پر رقم بھی دی جاسکتی ہےکہ جب ان کے پاس رقم آجائے تو وہ واپس کردیں، اس رقم کا واپس لینا جائز ہوگا؟
جواب: (۱) اگر مذکور مدرسہ میں ایسے رہائشی طلباء ہوں جو مسافر یا غریب ہونے کی وجہ سے مستحق زکوٰۃ ہوں اور زکوٰۃ کی تصریح کے بعد دینے کی صورت میں اس رقم کو مصرف زکوٰۃ میں لگانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہو تو اس اکاؤنٹ میں زکوٰۃ کی رقم جمع کرانے کی بھی گنجائش ہے، ورنہ نہیں۔
(۲) جی ہاں جمع کراسکتے ہیں اور اُن کے پاس رقم آنے کے بعد اپنی قرض دی ہوئی رقم واپس لیکر اپنے استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔
وفی العالمگیریة: وكذالك من علیه الزكاة لو اراد صرفها الٰی بناء المسجد او القنطرة لا یجوز فإن اراد الحیلة فالحیلة ان یتصرف به المتولی علی الفقراء ثم الفقراء یدفعونه الی المتولی ثم المتولی یصرف الی ذالك. اهـ (ج۲، ص۴۷۳)
وفی الشامیة: ان الناظر اذا انفق من مال نفسه علی عمارة الوقف لرجع فی غلته له الرجوع دیانة وقال فی الشامیة فی وقف تهدمت فاذن الناظر لرجل بان یعمرها من ماله فما الحكم فی ما صرفه من ماله باذنه اجاب اعلم ان عمارة الوقف باذن متولیه لرجع بما انفق یوجب الرجوع باتفاق اصحابنا. اهـ (ج۴، ص۴۴۰) والله اعلم بالصواب