زکوٰة کا بہترین حقدار کون ہے؟ کیا زکوٰۃ کی رقم مدرسہ کیلئے کتب خریدنے پر خرچ کی جاسکتی ہے؟
زکوٰۃ کی رقم سے کتب خرید کر بغیر تملیک شرعی کے مدرسہ کے کتب خانہ میں رکھنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ،البتہ کتب خرید کر مستحق طلبہ یا اہل علم کو دینا زکوٰۃ کا بہتر مصرف ہے، جبکہ مستحقین میں بہترین وقت اور حالات کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں، عموماً زکوٰۃ کا بہتر مصرف مستحق علماء، صلحاء یا وہ رشتہ دار جو مقروض ہیں۔
وفی الدر: ویشترط ان یكون الصرف تملیكًا لا اباحة كما مر لا یصرف الٰی بناء نحو مسجد ولا الٰی كفن میت وقضاء دین اهـ (ج۲، ص۳۴۴)
وفیه ایضًا: وكره نقلها الی الٰی قرابة بل فی الظهیریة لا تقبل صدقة الرجل وقرابته محاویج حتی یبدا بهم فیسد حاجتهم. اهـ (ج۲، ص۳۴۴) ولله تعالٰی اعلم