زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم برداری کیلئے مخصوص کرنا

فتوی نمبر :
70858
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم برداری کیلئے مخصوص کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری میمن کمیونٹی اپنی برداری کے غرباء و مساکین مرد و عورت کو شادی کیلئے خاطر خواہ رقم دیتی ہے جس میں لڑکی کیلئے جہیز، گھریلو سامان و دیگر اشیاء کیلئے رقم دی جاتی ہےا ور یہ رقم مدِ زکوٰۃ سے ادا کی جاتی ہے، آیا یہ رقم مدِ زکوٰۃ سے ادا کی جاسکتی ہے؟
یہ رقم چونکہ قسطوں میں ادا کی جاتی ہے جس میں یہ قباحت آسکتی ہے کہ ایک یا دو قسطوں میں وہ غریب صاحب نصاب ہوجائے اب بقیہ رقم جو ادا کی جارہی ہے زکوٰۃ سے اس کا کیا حکم ہے کیا قرضہ دے کر بعد میں زکوٰۃ کی رقم سے فرض ادا کیا جاسکتا ہے؟ بینوا توجروا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب ؛واضح ہو کہ سائل کی برادری کا اپنی برادری کے مستحقین کی شادی بیاہ جیسے مواقع میں زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ کی رقوم سے مدد کرنا بلاشبہ جائز اور ایک مستحسن امر ہے اور اس طریقہ پر دینے سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی مگر عام طور پر برادری کی سطح پر تقسیم زکوٰۃ کے سلسلہ میں واقعی مستحقین کی بجائے زیادہ تر اُن لوگوں کی معاونت کی جاتی ہے جو برادری میں غریب سمجھے جاتے ہیں خواہ وہ مستحقِ زکوٰۃ بھی ہوں یا نہ ہوں، اور اگر وہ مستحق بھی ہوں تو انہیں اس قدر دیا جاتا ہے کہ لینے والا خود صاحبِ نصاب بن جاتا ہے اور کوئی دوسرا غیر متعلقہ شخص اگر واقعی مستحق بھی ہو اس کی معاونت سے معذرت کی جاتی ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال برادری کی سطح پر جمع کی جانے والی زکوٰۃ کے مد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ ایک خاص مقدار جمع ہوکر برادری کے اُن افراد کے استعمال کیلئے مختص ہوجاتی ہے جو برادری کے مالدار طبقہ کے مقابلہ میں غریب اور کمزور ہوتے ہیں مگر شرعاً وہ مستحقِ زکوٰۃ نہیں ہوتے اور دوسرے جو واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہوتے ہیں غیر متعلقہ ہونے کی وجہ سے اپنے اس حقِ شرعی کو حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں، چنانچہ کسی قوم کی پستی کے اسباب میں سے یہ عمل بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، البتہ اگر کسی واقعی مستحق کی شادی بیاہ کی ضرورت کی خاطر واقعی ضروریات کے پیش نظر یکمشت بھی رقم یا سامان اُسے مہیا کیا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70858کی تصدیق کریں
0     579
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات