کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
ایک شخص کے پاس تین رکشے ہیں جو اس نے بغرض تجارت نہیں خریدے ہیں اور اکثر گھر میں کھڑے رہتے ہیں کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ اور اس طرح ایک مکان بھی ہے جو رہائشی مکان کے علاوہ ہے، لیکن بغرض تجارت نہیں خریدا ہے ، تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر مشکور فرمائیں۔
مذکور رکشے اگر واقعۃً تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ محض کرایہ پر دیکر کمائی کی غرض سے خریدے ہیں ، تو ان میں اور مذکور مکان میں شرعاً زکوٰۃ نہیں،البتہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر دوسرے اموال زکوۃ کے ساتھ ملکر بقدر نصاب ہو ، تو سال گزرنے پر اس میں بھی زکوٰۃ لازم ہے ورنہ نہیں۔
کما فی الدر: فلا زكوٰة علی مكاتب (الی قوله) ولا فی ثیاب البدن واثاث المنزل ودور السكنی ونحوها اذا لم تنو للتجارة. اهـ (ج۲، ص۲۶۵) والله اعلم بالصواب