زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا دوکان میں سامانِ تجارت کے علاوہ استعمال کی اشیاء پر زکوٰۃ ہوگی ؟

فتوی نمبر :
70864
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا دوکان میں سامانِ تجارت کے علاوہ استعمال کی اشیاء پر زکوٰۃ ہوگی ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی دکان ہے اس میں فروخت کی چیزوں کے علاوہ جو سامان استعمال کا ہے مثلاً ڈیفریزر، پنکھا، کرسی، ٹیوب لائٹ، ترازو، دکان کی الماریاں، برنیاں، وغیرہ اس کی بھی زکوٰۃ نکالنی پڑے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور اشیاء پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الفقه الإسلامی: لا زكوٰة فی دور السكنی وأثاث المنزل وأدوات الحرفة ودواب الركوب. الخ (864/2)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70864کی تصدیق کریں
0     799
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات