زکوۃ و نصاب زکوۃ

تین تولہ سونے کے ساتھ اگر کچھ نقدی بھی ہو تو اس پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
70905
| تاریخ :
2024-02-13
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تین تولہ سونے کے ساتھ اگر کچھ نقدی بھی ہو تو اس پر زکوۃ کا حکم

میری اہلیہ کے پاس 3 تولے سونا ہے، نقدی رکھا ہوا کچھ نہیں ہے ،پیسے آتے جاتے رہتے ہیں سو ،پچاس ہزار،تو آیا سونے کے ساتھ جو رقم ہے، اس پر بھی سال گزرنا ضروری ہے یا نقدی کی صورت میں زکوۃ آ جائیگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی بیوی کی ملکیت میں تین تولہ سونے کے علاوہ اگر کیش رقم ( اگر چہ معمولی مقدار میں ہو ) یا چاندی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود نہ ہو تو سائل کی بیوی پر فقط تین تولہ سونے کی زکوٰۃ نکالنا لازم نہ ہوگا، البتہ اگر سائل کی بیوی کے پاس مذکور سونے کے علاوہ قلیل مقدار میں بھی نقدی یا چاندی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود ہو تو ایسی صورت میں فی الوقت مذکور سونے کی مالیت چونکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے، اس لئے سونے کی مذکور مقدار اور نقدی وغیرہ کو ملا کر ان کی مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ دینا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 2 ص 259 ط: سعید )۔
وفی الھندیۃ: . وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 1 ص 179 ط: ماجدیۃ )۔
وفی بدائع الصنائع: أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم ( الی قولہ ) ولو نقص النصاب عن المائتين نقصانا يسيرا يدخل بين الوزنين. قال أصحابنا: لا تجب الزكاة فيه؛ لأنه وقع الشك في كمال النصاب فلا نحكم بكماله مع الشك الخ ( فصل ج 2 ص 405/406 ط: دارالکتب )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70905کی تصدیق کریں
0     901
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات