السلام علیکم !
سوال یہ ہے کہ کسی کے پاس پانچ تولہ سونا تھا ، لیکن اس سے زائد کوئی رقم وغیرہ نہیں تھی ، اب ان کے پاس اتنی رقم آگئی ہے کہ جس کے بعد ان کی کل مالیت ساڑھے سات تولہ سونا سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں سوال یہ ہے کہ کیا اب سال مکمل ہونے پر تمام مال کی زکوٰۃ نکالی جائیگی؟ یا پھر ابھی ساڑھے سات تولہ سونے پر زکوٰۃ نکالی جائیگی؟ اور اگر سال گزرنے کے بعد تمام مال پر زکوٰۃ دی جائے تو اگر سال کے دوران وہ رقم خرچ ہوجائے تو پھر کیا ہوگا؟
واضح ہو کہ نصاب سے کم سونے کے ساتھ کچھ رقم یا اموال زکوۃ میں سے کوئی بھی مال کسی کی ملکیت میں آجائے تو اس پر وجوب زکوۃ کے لئے دونوں کی مجموعی مالیت کا ساڑھے سات تولہ کے بقدر ہونا ضروری نہیں ، بلکہ ان کا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچنا کافی ہے ، لہذا شخص مذکور کے پاس جس وقت ساڑھے پانچ تولہ سونے کے ساتھ کچھ رقم آگئی تھی ، تو چونکہ فی زماننا ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی سے زائد ہو جاتی ہے ، اس لئے وہ شخص اس وقت سے صاحبِ نصاب بن چکا ہے ، چنانچہ اس کے بعد سے لیکر اب تک جتنے بھی قمری سال گزر چکے ہیں تو سال پورا ہوتے وقت اگر دونوں کی مجموعی مالیت بقدر ِنصاب ( ساڑے باون تولہ چاندی کے بقدر ) تھی تو اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے گزشتہ تمام سالوں کی ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی ، جبکہ درمیان سال اس میں سے خرچ ہونے یا کم ہو نے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہوگا ۔
كما في البدائع الصنائع : أما الأول فكمال النصاب شرط وجوب الزكاة فلا تجب الزكاة فيما دون النصاب الخ ( فصل الشرائط التي ترجع إلى المال، ج2، ص 15، ط : دار الكتب العلمية)-
و فيه أيضا : فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال الخ ( [فصل كان له ذهب مفرد،ج2، ص 18، ط : دار الكتب العلمية)-
و في المبسوط للسرخسي : وإذا كان النصاب كاملا في أول الحول وآخره فالزكاة واجبة، وإن انتقص فيما بين ذلك وقتا طويلا ما لم ينقطع أصله من يده الخ ( كتاب الزكاة، ج2، ص 172، ط : دار المعرفت)-
وفي الفتاوى التاتارخانية : ويضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب ويكمل إحدى النصابين بالآخر عند علمائنا ( إلى قوله) ثم قال أبو حنيفة يضم باعتبار القيمة ( إلى قوله) وقال أبو يوسف ومحمد : يضم باعتبار الأجزاء يعنى به الوزن الخ ( فصل في زكاة المال،ج ۳، ص ۱۵۸ ، ط : رشيدية)-
وفي فتاوى قاضى خان : الزكاة فرض على المخاطب إذا ملك نصاباناميا حولا كاملا الخ ( كتاب الزکاة ج ا ، ص ۳7۷ ، ط : رشيدية)-