زکوۃ و نصاب زکوۃ

زمین پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71010
| تاریخ :
2024-02-18
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زمین پر زکوۃ کا حکم

مجھے میرے والد نے 4 غیر زرعی زمینیں تحفے میں دی تھیں، ان کی قیمت بہت زیادہ ہے، میرا اُنہیں فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اس کے بجائے میں انہیں اپنے بچوں کو دینے یا مستقبل میں ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں، ابھی میرے پاس 1 بچہ ہے جس کی عمر 2 سال ہے۔کیا مجھے ان زمینوں کی زکوٰۃ دینی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں والد کی جانب سے مذکور گفٹ کردہ غیر زرعی زمینیں جب تک باقاعدہ تجارت اور کاروباری غرض کےلئے استعمال نہ کی جائیں، اس وقت تک سائل کے ذمہ ان زمینوں کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( فلا زکوۃ علی مکاتب ) ( الی قولہ ) (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) الخ
وفیہ ایضاً: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 2 ص 265/267 ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71010کی تصدیق کریں
0     997
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات