میں مطلقہ ہوں ، ایک مکان لے کر کرایہ پر دیا ہوا ہے جس سے اور کچھ ملازمت کرتی ہوں گزارا ہوتا ہے ، کیا مکان پر زکوٰۃ ہوگی ؟
مذکور مکان سائلہ نے اگر تجارت کی نیت سے نہ خریدا ہو بلکہ اس کو کرایہ پر دے کر اس سے کرایہ وصول کرنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے ذمہ اس مکان کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہ ہوگی ، البتہ اگر سائلہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہو اور ادائیگی زکوٰۃ کی تاریخ میں کرایہ کی مد میں ملنے والی رقم بھی سائلہ کے پاس موجود ہو ، یا کرایہ کی جمع شدہ رقم دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جاتی ہو اور اس پر قمری سال گزر جائے تو ایسی صورت میں اس مجموعی رقم پر بھی ادائیگی زکوٰۃ لازم ہوگی ، ورنہ نہیں ۔
کمافی التنویر مع الدر: (ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) إلخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وأثاث المنزل إلخ) محترز قوله نام ولو تقديرا، وقوله ونحوها: أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات اھ (ج2، صـــ265، ط:سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما فيما سوى الأثمان من العروض فإنما يكون الإعداد فيها للتجارة بالنية؛ لأنها كما تصلح للتجارة تصلح للانتفاع بأعيانها بل المقصود الأصلي منها ذلك فلا بد من التعيين للتجارة وذلك بالنية اھ (ج2، صـــ11، ط:سعید)۔