زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں پر لئے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71065
| تاریخ :
2024-02-20
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قسطوں پر لئے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ میری بیوی صاحب نصاب ہے دو تولہ سونا ہے اور نقدی بھی ہے، البتہ میں نوکری کرتاہوں مجھے جو پیسے ملتے ہیں میں اپنی بیوی کی ملکیت میں دے دیتاہوں ،پھر اس کا حساب نہیں لیتاالحمدللہ سات سال ہوگئے آپس میں محبت سے رہتے ہیں، بچے بھی ہیں، اللہ کا شکر ہے کوئی مسئلہ نہیں ہواہم اپنے والد صاحب کے گھر میں رہتے ہیں، والدہ کا انتقال ہوگیا، والد صاحب حیات ہیں الحمدللہ،ہمارا کوئی ذاتی مکان نہیں ہے والد صاحب کے مکان میں بجلی پانی گیس وغیر ہ کا جو خرچہ ہوتا ہے اس میں دو بھائی اور ہیں ہم سب مل کر ادا کرتے ہیں ، میری بیوی کے پاس جو نقدی ہے چونکہ ہمارا کوئی ذاتی گھر یا مکان نہیں ہے ہم نے یہ رقم ایک سوسائٹی میں ایک دوست کے ساتھ ملکر پارٹنر شپ میں ایک زمین قسطوں پر لی ہے جس کی کل مالیت کا آدھا 1200،000لاکھ بنتی ہے یہ رقم میری اہلیہ ادا کرتی ہیں، میں اپنی تنخواۃ اہلیہ کی ملکیت میں دے دیتاہوں جیسا کہ پہلے تحریر کیا گیاہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ جگہ جو میری بیوی نے قسطوں پر لی ہے۔اور لی اس نیت سے ہے کہ اس رقم سے کچھ فائدہ ہوگا تو اس میں کچھ اور رقم ملاکر کوئی جگہ خرید لیں گے ہمارے بچے اور ہم اس گھر میں رہیں گے،ہم اس جگہ کی جو اب تک قسطیں ادا ہوگئی ہیں اس رقم کی اور جو سونا میری بیوی کے پاس ہے اس کی کل رقم کی ہرسال زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔مجھے ایک ساتھی نے کہا کہ چونکہ یہ جگہ اپنے بچوں کے لئے لی ہے لہذا اس جگہ کے لئے جو رقم ادا کررہے ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے صرف جو سونا اور جو نقدی میری بیوی کے پاس ہوگی اس پر زکوٰۃ ہوگی کیا یہ بات درست ہے؟ کیا میری بیوی کو اس جگہ کی جو کل رقم اب تک ادا ہوگئی ہے اس کی زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے تو جو ادا کردیا اس کا کیاہوگا؟والسلام!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں سائل کی بیوی نے جو پلاٹ قسطوں پر خریدا تھا،وہ اگر تجارت (آگے بیچنے) کی نیت سے خریدا تھا (جیسا کہ بظاہر سوال سے معلوم ہورہا ہے) تو مذکور پلاٹ پر بھی سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية اھ (کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 179، ط: ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71065کی تصدیق کریں
0     850
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات