زکوۃ و نصاب زکوۃ

سال کے درمیان میں خریدے ہوئے زیور پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71072
| تاریخ :
2024-02-20
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سال کے درمیان میں خریدے ہوئے زیور پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی صاحبِ نصاب ہو اورسال کے بیچ میں نیا زیور خریدا ہو تو کیا اس پربھی زکوٰۃ ہوگی ؟ جبکہ اس پر سال پورا نہیں ہوا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صاحبِ نصاب شخص اگر سال کے درمیان سونے، چاندی کے زیورات خریدلے اور یہ زیورات زکوۃ کی تاریخ تک اس کی ملکیت میں رہیں تو ایسی صورت میں اگرچہ ان زیورات پر الگ سے مستقل سال نہ گزرا ہو تب بھی زکوۃ کی تاریخ میں دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ ان زیورات کی زکوۃ بھی لازم اور ضروری ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: (ومنھا کون المال نصابا) فلا تجب فی أقل منہ ھکذا فی العینی شرح الکنز (کتاب الزکوۃ ج1 صـ 172 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: ومن کان لہ نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالا من جنسہ ضمہ إلی مالہ وزکاہ سواء کان المستفاد من نمائہ أولا وبأی وجہ استفاد ضمہ سواء کان بمیراث او ھبۃ أو غیر ذلک ولو کان من غیر جنسہ من کل وجہ کالغنم مع الإبل فإنہ لا یضم ھکذا فی الجوھرۃ النیرۃ اھ(کتاب الزکوۃ ج1 صـ 175 ط: ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71072کی تصدیق کریں
0     805
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات