کیا فرماتے ہیں مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مَیں گاڑیوں کا کاروبار اس طریقہ کے ساتھ کرتا ہوں کہ میں گاڑیاں خریدتا ہوں ان کی نقد قیمت کے ساتھ اور پھر جب فروخت کرتا ہوں تو قسط وار تو جب قسط وار دیتا ہوں ان میں جتنا منافع ہوتا ہے یعنی ایک لاکھ کی گاڑی خریدی نقداً پھر آگے فروخت کی ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ پر اب یہ جو پچاس ہزار روپیہ منافع ہے ان کی زکوٰہ میں ادا کرلیتا ہوں سال کے آخرمیں لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ پچاس ہزار روپیہ مجھے دو تین سال میں ملتے ہیں ایسا ہی کبھی گاڑی کی گم ہوجانے کی وجہ سے ایک لاکھ پچاس ہزار کے بجائے ایک لاکھ پچیس ہزار لینا پڑتا ہے۔
حل طلب امر یہ ہے کہ یہ جو قسط وار منافع ہے ان پر زکوٰۃ ادا کرنے کی کیا صورت ہوگی تفصیل سے حکم بیان فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔
سائل کیلئے زکوٰۃ نکالنے کی سہل اور اصولی ترتیب یہ ہے کہ وہ چاند کی تاریخوں کے اعتبار سے زکوٰۃ نکالے اور پھر زکوٰۃ نکالنے کی تاریخ میں وہ اپنے پاس موجود سونے چاندی اور مال تجارت کا حساب کرلے اور جن گاڑیوں پر قسطیں باقی ہیں ان سب کی مجموعی رقم اور پھر ان سب کے مجموعہ میں اپنے پاس موجود نقد رقم بھی شامل کرلے اور پھر اپنے اوپر واجب الاداء قسطوں اور قرضہ کو اس سے منہا کردے جو عدد بچ جائے اس میں سے چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ مستحقین کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دیا کرے۔
وفی الدر المختار: وتجب زکاتھا اذ اتم نصابا وحال الحول لکن لا فورا بل عندہ قبض اربعین درہما من الدین القوی کقرض وبدل مال تجارة فکلما قبض الربعین یلزمہ درہم. (ج۲، ص۳۰۵) واللہ اعلم بالصواب