زکوۃ و نصاب زکوۃ

دکان کی زکوٰۃ کا طریقہ کار

فتوی نمبر :
71159
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

دکان کی زکوٰۃ کا طریقہ کار

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس کے بارے میں کہ اموالِ تجارت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا کیا طریقہ کار ہے؟ ان صورتوں کی بالتفصیل وضاحت فرمائیں: (۱) کسی آدمی کے پاس اپنی دکان ہے جس کو وہ چلاتا ہے اب وہ سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کس طرح زکوٰۃ ادا کرے؟ اور کون سے مال کا حساب لگاکر زکوٰۃ ادا کرے؟
(۲) اور اگر شخص مذکور نے گزشتہ کئی سالوں کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو تو اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟
(۳) کسی آدمی کے پاس اپنی گاڑی ہے جس کو وہ تجارت کیلئے استعمال کرتا ہے یعنی کرایہ پر چلاتا ہے آیا سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دےکر مشکور فرمائیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دکان میں جو سامان برائے فروخت رکھا ہوا ہے اس کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس سارے مال کی قیمتِ فروخت لگائی جائے اور پھر اس سے اپنے ذمہ واجب الاداء قرضے نکالنے کے بعد اس کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ نکال کر مستحقین کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیا جائے، اب اگر گزشتہ سالون کی زکوٰۃ بھی ذمہ میں رہتی ہو تو بقیہ مال سے مذکور مقدار میں مزید ایک سال کی زکوٰہ نکالنے کے بعد جو بچ جائے اس سے اسی طرح تیسرے اور چوتھے سال کی زکوٰہ نکالتے جائیں، جبکہ مذکور گاڑی پر زکوٰۃ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الھدایة: الزکاة واجبة فی عروض التجارة کائنة ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق او الذھب لقولہ علیہ السلام فیھا یقومھا فیؤری من کل مائتی درھم خمسة دراھم. اھ (ج۱، ص۱۹۵)
ھٰکذا فی العالمگیریة (ج۱، ص۱۷۹)
وفی الفقہ الإسلامی: یقوم التاجر العروض أو البضائع التجاریة فی اٰخر کل عام بحسب سعرھا فی وقت اخراج الزکاة. اھ (ج۲، ص۷۹۲)
وفی الدّر: ولا فی ثیاب البدن واثاث المنزل ودور السکنٰی. اھـ
وفی الشامیة: تحت قولہ ونحوھا ای کثیاب البدن الغیر المحتاج وکالحوانیت والعقارات. اھـ (ج۲، ص۲۶۵)
وفی الفقہ الإسلامی: لا تجب الزکوٰة فی اعبان العمائر الاستغلالیہ والمصانع والسفن. اھـ (ج۲، ص۸۶۵) واللہ تعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسیب احمد حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71159کی تصدیق کریں
0     892
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات