کیا کہتے ہیں علمائے ومشایخ اس بارے میں ،برائے مہربانی اس سوال کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں عنایت فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کے علم کو وسیع فرمائے اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین
ہماری جماعت نے تعلیم کے سلسلے میں ایک ایجوکیشن سوسائٹی تشکیل دی ہے جس کا مقصد ہماری برادری کے غریب و نادار طالبعلم جن کے والدین اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کرسکتے اُن کو (دنیاوی تعلیم) کیلئے اسکول فیس، کتابیں، یونیفارم، بیگ و جوتے اور دیگر ضروریات مہیا کرنا ہے۔
اس بارے میں آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا ہم اوپر درج کئے گئے مقاصد کیلئے زکوٰۃ سے آئی ہوئی رقم استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ دنیاوی تعلیم کیلئے زکوٰۃ کی رقم سے غریب ومفلس طالبعلموں کی مدد کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
برائے مہربانی اس مسئلہ کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں بتاکر ہماری رہنمائی فرمائیں۔
اگر بچے سید نہ ہوں اور نادار ہونے کی وجہ سے واقعۃً مستحق زکوٰۃ ہوں تو زکوٰۃ کی مد سے ان پر مالکانہ طور پر خرچ کرنا اگرچہ بلاشبہ جائز اور درست ہے مگر دنیوی تعلیم کے بجائے ایسے لوگوں پر خرچ کرنا جو دین اُمور میں مشغول ہوں زیادہ بہتر اور افضل ہے، اور ان پر خرچ کرنے میں دھرا اجر ہے، خصوصاً جبکہ دینی اُمور کیلئے حکومتی سطح پر کوئی فنڈ بھی مقرر نہیں ہوتا۔
فی الھندیة: (منھا الفقیر) وھو من لہ ادنی شیٔ وھو ما دون النصاب او قدر نصاب غیر نام وھو متغفرق فی الحاجة فلا یخرجہ عن الفقر ملک ونصب کثیرة غیر نامیة اذا کانت متغرقة بالحاجة. (ج۱، ص۱۸۷)
وفی البحر الرائق: یجوز دفع الزکوٰة الی من یملک ما دون النصاب او قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجة. (ج۲، ص۲۴۰)
وفی الدر المختار: ویشترط ان یکون الصرف (تملیکا) لا اباحة. (ج۲، ص۳۴۴)
وفی الھندیة: اذا دفع الزکاة الی الفقیر لا یتم الدفع مالم یقبضھا او یقبضہا للفقیر من لہ ولایة علیہ نحو الاب والوصی. (ج۱، ص۱۹۰) واللہ اعلم بالصواب