کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علمائے عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی دوکان ہے ، جس میں متعدد اشیاء رکھی ہوئی ہیں مثلاً پلائی ووڈ، ہارڈویئر، ایلمونیم، شیشہ، لکڑی وغیرہ رکھی ہوئی ہیں، اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ان کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے حال یہ ہے کہ اس میں بہت باریک چیزیں بھی ہوتی ہیں، مثلاً کیل، قبضہ، چٹکنی یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا شمار کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، جبکہ دوسری چیزوں کی گنتی ممکن ہے ،لیکن کیل، قبضہ، چٹکنی غرض کہ ہارڈوئیر کے سامان کی گنتی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے جس پر کئی دن مثلاً دس (۱۰) دن لگ جائیں۔
برائے مہربانی اس کے صحیح ادا کرنے اور سہل طریقے سے ادا کرنے کی رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اس پریشانی سے خلاصی پائیں۔ جزاک اللہ خیراً!
دوکانداری کے مالِ تجارت پر ادائیگی زکوٰۃ کے لئے ہر مال کی تفصیلی گنتی لازم نہیں، بلکہ ایسی الشیاء کے ڈبے، بنڈل اور پیکٹ کے حساب سے اندازہ کرکے پوری دکان کی یا دکان میں موجود پورے اسٹاک کی قیمت لگاکر زکوٰۃ نکالنا بھی جائز ہے ،لہٰذا اس کل مجموعہ کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ فقراء و مساکین کو دینا شرعاً لازم ہے۔