کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارےمیں کہ بعض لوگ دانت سونے کے تاروں سے بندھوالیتے ہیں یا کھوکھلے دانت کے اندر سونا بھروالیتے ہیں اور دانت سے سونا جدا بھی نہیں ہوسکتا سوال یہ ہے کہ آیا صاحب نصاب پر اس سونے میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی، یعنی یہ بھی نصاب میں شمار ہوگا۔ بینوا توجروا!
صورتِ مسئولہ میں مذکور سونے کی زکوٰۃ واجب نہیں۔
وفی الدر المختار: وسبب أفتراضھا الی قولہ وفارغ عن حاجتہ الأصلیة لأن المشغول بھا کالمعدوم وفسرہ ابن ملک بما یدفع عنہ الھلاک تحقیقًا کثیابہ أو تقدیرًا کدینہ. اھـ (ج۲، ص۲۶۲)
(وفیہ) بعد عد الجزئیات المتعددة اللّتی لا زکوٰة فیھا مانصہ لعدم النحو وفی الرد تحت قولہ لعدم التمو لأنہ غیر متمکن من الزیادة. اھـ (ج۲، ص۲۶۶) واللہ اعلم