زکوۃ و نصاب زکوۃ

مریض کے علاج کیلئے زکوٰۃ کی رقم لینے کا حکم

فتوی نمبر :
71170
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مریض کے علاج کیلئے زکوٰۃ کی رقم لینے کا حکم

محترم جناب مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ میری والدہ کی طبیعت بہت خراب ہے ان کے علاج کیلئے مجھے زکوٰۃ کے حصول کیلئے آپ سے رائے درکار ہے، حالات کچھ اس طرح ہیں کہ میرے والد صاحب تقریباً پندرہ سال قبل انتقال کرگئے تھے، میری والدہ ایک بہن اور ایک بھائی میری پھوپھی والوں کے ساتھ رہتے ہیں، چھوٹا بھائی محنت مزدوری کرکے گھر کی کفالت کرتا ہے اور میں خود شادی شدہ ہوں اور ایک کرائے کے مکان میں رہتا ہوں اور میری آمدنی اتنی نہیں ہے کہ میں ان کی مدد کرسکوں، میری والدہ گُردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کے علاج کیلئے مجھے تقریباً پانچ ہزار روپے کی ضرورت ہے، آپ صرف یہ بتادیجئے کہ ان حالات میں میری والدہ زکوٰۃ کی مستحق ہیں یا نہیں؟ شکریہ!
نوٹ: میری والدہ صاحبہ کے پاس سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم یا مالِ تجارت میں سے کچھ نہیں جو کچھ تھا والد صاحب کے علاج معالجہ میں لگادیا تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی والدہ اگر واقعۃً مستحق ہیں تو اس صورت میں زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ سے اس کی معاونت اور اُس کا علاج کرانا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 71170کی تصدیق کریں
0     1140
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات