کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوٰۃ کے پیسوں سے اناج خرید کر تو مساکین کو دے سکتے ہیں، کیا اس اناج کو پکاکر بھی کھلاسکتے ہیں یا نہیں؟
زکوٰۃ کی رقم سے کھانا پکاکر اور فقراء و مساکین کو دستر خوان پر بٹھاکر کھلانے میں تملیک نہیں پائی جاتی بلکہ یہ محض اباحت کی صورت ہے جس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، البتہ کھانا پکاکر مخصوص مقدار میں مستحقین کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دیا جائے تو اس سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
وفی الدر: (ھی) لغة الطھارة والنماء وشرعًا (تملیک) خرج الإباحة، فلو أطعم یتیمًا ناویًا الزکاة لا یجزیہ إلا إذا دفع إلیہ المطعوم الخ (قال ابن عابدینؒ) (قولہ إلّا اذا دفع إلیہ المطعوم) لأنّہ بالدفع عالیہ بنیة الزکاة یملکہ فتصیر اٰکلًا من ملکہ بخلاف ما اذا أطعمہ معہ. الخ (ج۲، ص۲۵۶-۲۵۷) واللہ اعلم بالصواب