کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کبھی کبھار ملکی حالات کے پیش نظر ہم اپنے سرمایہ کو محفوظ رکھنے کیلئے قیمتی جواہرات سونا اور چاندی خریدتے ہیں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان جواہرات اور دیگر اشیاء پر سال گزرنے کے بعد ان کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب اور ضروری ہے یا نہیں؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ مذکور صورت میں سرمایہ کو محفوظ رکھنے کیلئے اس کے بدلے جو سونا اور چاندی خریدے جاتے ہوں تو دیگر اموالِ زکویہ کے ساتھ ملاکر ان پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔
البتہ جواہرات اگر تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہوں تو ان پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔
وفی الدر: (لا زکوٰة فی اللآلی والجاھر) وإن ساوت ألفا اتفاقا (الا أن تکون للتجارة).
وفی الشامیة: (قولہ والجواھر) کاللؤلؤ والیاقوت والزمرد وأمثالھا. (ج۲، ص۲۷۳)
وفی الدر: (نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضة مائتا درھم) (الی قولہ) واللازم مبتدأ (فی مضروب کل) منھما ومعمولہ ولو تبرا أو حلیا مطلقا) مباح الاستعمال أولا ولو للتجمل والنفقة لأنھما خلقا أثمانا فیزکیھما کیف کانا. اھـ (ج۲، ص۲۹۸) واللہ تعالٰی اعلم