کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام مسجد جو کہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ان کے گھر میں ضرورت کی اشیاء مثلاً فریج ایک موٹر سائیکل اور دینی کتابوں کا کچھ ذخیرہ ہے اس کے علاوہ تقریباً ایک لاکھ روپیہ جو کہ امام صاحب نے کاروبار میں لگارکھے ہیں، جبکہ تقریباً پینسٹھ ہزار روپے کے مقروض ہیں، کاروبار میں جو پیسے لگائے ہیں اس سے کم و بیش پچیس سو روپے آمدنی ہوتی ہے جو کہ قرض میں چلے جاتے ہیں اور امام صاحب کی اپنی تنخواہ سے گھر کے اخراجات مثلاً گھر کا کرایہ، بجلی گیس کا بل اور دیگر اخراجات مشکل سے پورے ہوتے ہیں، جبکہ مسجد کی کمیٹی کا صدر بھی سخت مخالف ہے اور مولوی صاحب کرائے کے مکان میں رہنے کی وجہ سے سخت پریشان ہیں کہ اب مکان سے نکال دیں گے۔
اب اس صورت میں کیا زکوٰۃ سے امام صاحب کی مدد کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ جواب دیکر مشکور فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور امام موصوف بلاشبہ صاحبِ نصاب ہیں اور زکوٰۃ کی رقم سے ان کی مدد کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر دیگر عطیات اور صدقاتِ نافلہ کی مد سے اس کا تعاون کیا جائے، تو یہ عمل بلاشبہ جائز ہے اور ایسے ہی کرنا چاہئے۔
بلکہ صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے خود اس امام موصوف پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔
وفی الھدایة: الزکوٰة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابا ملکا تاما وحال علیہ الحول. (185/1) واللہ اعلم