کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو کہ مدرسہ کے معلم و معلّمات کو تنخواہ بھی دیتا ہے اور جس جگہ مدرسہ ہے اس کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے، تو کیا اُس شخص کو اس مدرسہ کیلئے زکوٰۃ لینا جائز ہے؟ حالانکہ اس مدرسہ میں کوئی طالبعلم اور طالبہ مسافر نہیں ہے صرف اساتذہ کی تنخواہیں اور کرایہ ہے۔
مذکور مدرسہ میں کوئی مصرفِ زکوٰہ نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا دینا جائز نہیں، لہٰذا بلا واسطہ تملیک زکوٰۃ کی رقم ان مذکور مصارف میں خرچ کرنے سے احتراز لازم ہے، ان مصارف میں نفلی صدقات اور عطیات کی مد سے خرچ کرنا جائز ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیئے۔
وفی الدر المختار: ویشترط ان یکون الصرف (تملیکا) لا اباحة. (244/2)