جناب مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ عرصہ ڈھائی سال سےمیرے شوہر کا کاروبار نہیں ہے اس سے پہلے وہ باہر ملک میں تھا اس دوران ہمارا کسی پر تقریباً چار لاکھ تک قرضہ ہے وہ لوگ ابھی اس پوزیشن میں نہیں کہ ہمیں واپس کریں اور اتنے غریب نہیں کہ ان پر زکوٰۃ ہو تو ہمارے پاس جو جمع پونجی تھی اس سے ہم گزارہ کررہے ہیں اس میں گاڑی خریدی تھی وہ بیچ دی اور وہ پیسےہم نے گھر کے خرچہ میں استعمال کئے اب ہمارے پاس کچھ سونا ہے اور یہ رقم جو کہ ہم نے قرضہ حسنہ دی ہے بغیر سود اور منافع کے، تو آیا اس کی زکوٰۃ ہم ادا کریں گے، تو اگر یہ پیسے واپس کردیں جب دیں پچھلے سال تک ہم نے زکوٰۃ دی تھی، اب کسی سے سنا ہےکہ قرضے پر زکوٰۃ نہیں ہے تو آپ مہربانی فرماکر ہمیں جواب دیں تاکہ دل کو تسلی ہوجائے۔
مذکور سونا اگر ساڑھے ساتھ تولہ یا اس سے زائد مقدار میں ہو تو نصاب کا سال پورا ہونےکے وقت اس سونے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ورنہ بقدر نصاب قرض کی وصولی کے بعد ادا کریں، اب اگر یہ وصولی سال سے پہلے ہوجائے تو سال پورا ہونے پر اس مقدار کی زکوٰۃ ادا کریں ورنہ گزشہ سالوں کا بھی حساب کرکے ادائیگی زکوٰۃ لازم ہوگی، چنانچہ اس طرح کے قرض پر وجوب زکوٰۃ کا شرعاً یہی حکم ہے اور سائل نے اب تک اس قرض سے متعلق جتنی زکوٰۃ ادا کردی ہے وہ شرعاً بھی ادا ہوچکی ہے۔
قال فی الدر المختار: نصاب الذھب عشرون مثقال والفضة مأة درھم وزن سبعة. (ج۲، ص۲۵۸)
قال فی الشامیة: فاذا قبض ذالک کلہ أو اربعین درھما منہ باقتطاع ذالک من اجرة الدار تجب زکواتہ لما مضی من السنین والناس عنہ غافلون. (ج۲، ص۳۰۵) واللہ اعلم