کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کسی سے پانچ ہزار روپیہ قرض لیا او بطورِ کفیل کے پانچ آدمیوں کو دیا کہ اگر میں قرض نہ دوں تو ان پانچ میں سے جس سے آپ چاہیں وصول کرسکتے ہیں اب ہر کفیل کے پاس گھر میں پانچ ہزار روپے موجود ہیں اور ان پر سال بھی گزر چکا ہے تو کیا اس صورت میں کفیل پر زکوٰۃ ادا کرنا پانچ ہزار کی ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا وتوجروا!
عبارت ذیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رقم چونکہ کفالت کی بناء پر دَین میں مشغول ہے اس لئے یہ زکوٰۃ کے وجوب سے مستثنیٰ ہوگی اور ایسے شخص پر اتنی رقم کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔
لو استقرض الفا فکفل عنہ عشرة ولکل الف فی بیتہ وحال الحول فلا زکوٰة علی واحد منہم لشغلہ بدین الکفالہ. واللہ اعلم بالصواب