زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے کسی مستحق بچے کے تعلیمی اخراجات پورے کرنا:

فتوی نمبر :
71194
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے کسی مستحق بچے کے تعلیمی اخراجات پورے کرنا:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ گزشتہ سال رمضان میں میرے حساب سے جو زکات نکلتی تھی وہ میں نے ڈھائی ہزار نکالی تقریباً اس سال کا حساب بھی یہ تھا لیکن ماہِ اگست میں میں نے ایک مستحق بچہ جو میرا رشتہ دار نہیں اس کی تعلیم کی ذمہ داری اقراء اسکول کی لی جس میں فوری طور پر سولہ سو روپے اور ہر مہینہ پانچ سوروپے میرے ذمہ آتے ہیں اور یہ ذمہ داری میں نے اس کے حفظ ہونے تک لی ہے جس میں تین سال سے چار سال لگ جائیں گے ہر سال فیس کی مد میں چھ ہزار لگیں گے یہ ذمہ داری لیتے وقت میں نے یہ نیت کی تھی کہ زکات کی رقم اس میں دے دوں گا لیکن بعد میں یہ رقم زکات سے زیادہ ہوگئی، انشاء اللہ میں یہ رقم دے سکتا ہوں لیکن فی الحال میری یہ گنجائش نہیں کہ ہر سال چھ ہزار دیکر پھر زکات بھی دوں۔
(۱) کیا میرا یہ عمل صحیح ہے کہ سال میں ایک دفعہ زکات نکالنے کی بجائے ہر ماہ ۵۰۰ روپے دے دوں؟
(۲) میرے اس عمل سے میری زکات جو میرے ذمے ہے ادا ہوجائے گی (زکات کی رقم چھ ہزار سے کم بنتی ہے)۔
(۳) فیکٹری میں ’’گولڈن اسکیم‘‘ کیلئے لوگ استعفی دیتے ہیں یونین اور مالکان کے درمیان معاملہ طے ہوکر جو بھی رقم دے رہے ہیں وہ اس پر زکات کاٹ رہے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ (گریجویشن) آپ ہی کی رقم ہمارے پاس جمع تھی اس لئے ہم کاٹ رہے ہیں (لوگوں نے فارم جمع کردئیے کہ ہم اپنی زکات خود دیں گے)۔
آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ جب وہ رقم یا چیک ہمارے قبضے میں آجائے تو ہم ایک سال گزرنے پر دے دیں یا ابھی فوراً دیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور طریقہ سے ماہانہ ۵۰۰ پانچ سو روپے کے حساب سے بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
(۲) مذکور رقم سے پہلے اگر ملازم صاحبِ نصاب نہ ہو تو مذکور اسکیم سے بقدرِ نصاب ملنے کی صورت میں سال گزرنے کے بعد جتنی رقم اور دیگر اموال زکویہ موجود ہیں سب کی زکوٰہ نکالنا واجب ہوگا اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو اپنی زکوٰۃ کا سال پورا ہونے پر ہر شخص کو دوسرے اموال کے سال ملاکر مذکور اسکیم سے ملنے والی رقم کی بھی زکوۃ نکلانا واجب ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: لو عجل ذو نصاب زکوتہ لسنتین او لنصب صح لوجود السبب وفی الشامیة لووجد السبب ای سبب الوجود وھو ملک النصاب النامی فیجوز التعجیل لسنة او اکثر. اھـ (ج۲، ص۲۹۳)
وفیہ ویشترط ان یکون الصرف تملیکا ..... وقضاء دینہ اما دین الحر الفقیر فیجوز لو بامرہ وفی الشامیة ای یجوز عن الزکاة علی انہ تملیک منہ والدائن یقبضہ بحکم النیابة عند ثم یصیر قابضا لنفسہ. اھـ (ج۲، ص۳۴۵)
وفی الدر: والمستفاد ولو بھبة او ارث وسط الحول یضم الی نصاب من جنسہ فیزکیہ بحول الاصل. (ج۲، ص۲۸۸)
وفی البدائع: وجملة الکلام فی الدیون انھا علی ثلٰث مراتب فی قول ابی حنیفة دین قوی ودین ضعیف ودین وسط کذا قال عامة مشائخنا ... واما الدین الوسط فما وجب لہ بدلا عن مال لیس للتجارة کثمن عبد الخدمة .. وفیہ روایتان عنہ ذکر فی الاصل انہ تجب فیہ الزکاة قبل القبض .... وروی ابن سماعة عن ابی یوسف عن ابی حنفیة انہ لا زکوٰة فیہ حتی یقبض المأتین ویحول علیہ الحول من وقت القبض وھو اصح الروایتین عنہ. اھـ (ج۲، ص۱۰) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 71194کی تصدیق کریں
0     644
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات