کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک قاری صاحب کو مستقل امامت اور بچوں کو قرآن مجید پڑھانے کیلئے مقررہ تنخواہ پر رکھ لیا جائے، تو مخیر حضرات اپنی زکوٰۃ کی رقم اس قاری صاحب کو بطورِ تنخواہ دے سکتے ہیں جبکہ دیگر اہل محلہ انتہائی غریب ہیں اور مسجد کے لوازمات بہت زیادہ ہیں؟
زکوٰۃ کی رقم تنخواہ کی مد میں دینا جائز نہیں ، اس لئے مذکور طرز پر عمل کرنے سے احتراز لازم ہے، البتہ مذکور قاری صاحب موصوف اگر واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہو ، تو زکوٰۃ کی مد سے اس کی معاونت بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر مع الرد: فصرف الزکوة والعشر، وأما خمس المعدن فمصرفہ کالغنائم ھو فقیر، وھو من لہ أدنی شیئ أی دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة الخ
وفی الشامیة: والحاصل أن المراد ھنا الفقیر المقابل للمسکین لا للغنی قولہ أی دون نصاب أی نام فاضل عن الدین، فلو مدیونًا فھو مصرف کما یأتی اھـ (239/2)