میرے والد کا انتقال ۱۹۸۴ میں ہوا تھا، اس وقت میں صرف پانچ سال کا تھا، میری والدہ نے محنت کرکے میری اور میری بڑی بہن کی پرورش کی، ۱۹۹۸ میں میری والدہ کے گردوں میں تکلیف پیدا ہوئی اور آج تک ان کا ہفتے میں دو بار ڈائیلیسز ہوتا ہے، جس کا خرچہ میری والدہ کے رشتے داروں نے آج تک برداشت کیا، جناب میں دو جگہ نوکری کرتا ہوں اور میری مہینے کی آمدنی ۵۴۰۰ روپے ہے جبکہ میری بڑی بہن ایک اسکول میں پڑھاتی ہے اس کی مہینے کی آمدنی ۱۰۵۰ جبکہ ٹیوشن وغیرہ سے ۷۵۰ روپے آتے ہیں، ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہ ہمارے جاننے والے کا ہے ،جس کا کرایہ ہم ادا نہیں کرتے، لیکن چونکہ اس گھر کا بجلی کا بل جو کہ پچھلے کرایہ داروں کی وجہ سے کافی بڑھ چکا ہے تو ہم مہینے کے ۲۱۰۰ روپے ادا کرتے ہیں، اس کے علاوہ گیس کا بل ۱۳۰ روپے، امی کی دوائیوں کا خرچہ ۱۰۰۰ روپے کے قریب ہے، وہ ہمارے ذمہ ہے۔
اب جناب جن کے گھر میں ہم مقیم ہیں ان کا ارادہ گھر کو فروخت کرنے کا ہے، لہٰذا اب کوئی بھی کرائے کا گھر ملتا ہے، تو اس کا کرایہ کم از کم بھی ۱۵۰۰ روپے ہوتا ہے، جناب میرے مالک کا ایک جاننے والا ہے جو کہ زکوٰۃ کے روپوں سے لوگوں کی مدد کرتا ہے، جناب میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ گھر میں خرید لوں، کیا میں اس زکوٰۃ کا مستحق ہوں؟ جناب قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا جواب دیں۔ شکریہ!
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اگر واقعۃً صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا مستحق ہو ، تو کسی صاحبِ وسعت کا زکوٰۃ وغیرہ کی رقم سے رہائشی مکان خرید کر اُس پر اُسے مالکانہ قبضہ دے دینا، بلاشبہ جائز اور درست ہے اور زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی۔
کمافی الھندیة: (منھا الفقیر) وھو من لہ أدنی شیئ وھو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجة فلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرة غیر نامیة اذا کانت مستغرقة بالحاجة کذا فی فتح القدیر. (187/1)
وفیھا ایضًا: ویجوز دفعھا الی من یملک أقل من النصاب وان کان صحیحا مکتسبا کذا فی الزاھدی. (189/1)