(۱) ہمارے پاس آئیٹم (چیزیں) ایسے پڑے ہیں ،جن کا استعمال یا تو بالکل ختم ہوگیا ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے، ایسے آئیٹم پر زکوٰۃ دینا چاہیئے یا نہیں؟ یا اس کا ریٹ خرید سے کم کرکے زکوٰۃ دے دیں؟ شریعت کی رو سے بتائیں۔
(۲) ایک شیئر کی فیس قیمت دس روپے ریٹ گورنمنٹ اس پر زکوٰۃ کٹوتی 00.25 لیتی ہے جبکہ یہ شیئر مارکیٹ میں فروخت کروں تو اس کی قیمت سو روپے تک ہوتی ہے ، تو کیا ہمیں زکوٰۃ فیس ویلیو قیمت پر ادا کرنا چاہیئے یا جو کہ موجودہ فروخت قیمت ہے اس پر زکوٰۃ نکالنی چاہیئے جبکہ 101 شیئر مارکیٹ سے خریدار تو بیوپاری کے دام سے 00.10 سے 00.25 زیادہ میں خریدار ہوتے ہیں؟
(۱،۲) مذکور سامان اور شیئرز کی جو بھی موجودہ قیمتِ فروخت ہو، اسی کے حساب سے ان کی زکوٰۃ نکالنا بھی لازم ہے۔
کما فی الفقہ الإسلامی: یقّوم التاجر العروض او البضائع التجاریة فی آخر کل عام بحسب سعرھا فی وقت الاخراج لا بحسب سعر شرائھا اھ (292/7)
وفی الھندیة: وتعتبر القیامة عند حولان الحول بعد ان تکون قیمتھا فی ابتداء الحول مأتی درھم اھ(179/1)