کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین در ایں مسئلہ کہ عبد اللہ صاحب کا انتقال آج سے ایک سال پہلے ہوا تھا، ان کے ورثاء میں کئی بیٹے اور بیٹیاں اور اہلیہ ہیں، انتقال سے قبل انہوں نے اپنے کاروبار میں سے آدھا کاروبار ایک بیٹے کو ہبہ کیا تھا انتقال سے قبل یہی بیٹا کاروبار کرتا تھا ور دوسرے بیٹےا لگ تھے، انتقال کے بعد ورثاء نے کل کاروبار کی مالیت لگوائی اور ورثہ کی مالیت متعین کی گئی، پھر مذکور بیٹا جو کاروبار سنبھالتا تھا اس نے ورثہ کی رقم میں سے چند ورثاء کا حق انہیں ادا کردیا، ایک بیٹی نے یہ کہا کہ میں دو سال بعد ورثہ کی رقم وصول کروں گی، اور بیوہ کو بھی یہ بیٹا تنگی کی بناء پر رقم ادا نہ کرسکا، اب پوچھنا یہ ہے کہ بھی یہ بیٹا تنگی کی بناء پر رقم ادا نہ کرسکا، اب پوچھنا یہ ہے کہ (۱) جس بہن نے دو سال بعد رقم لینی ہے اس رقم کی زکوٰۃ کون ادا کرے گا؟
(۲) ماں کو رقم طے کرکے تنگی کی وجہ سے ادا نہ کرسکا ماں کو اس کی رقم کے حصہ کے بقدر نفع میں شریک کرنا ہوگا یا وہ متعین شدہ رقم ادا ہوگی اور اس رقم کی زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟ بینوا توجروا!
صورتِ مسئولہ میں چونکہ ورثاء نے کل کاروبار کی مالیت طے کرکے تمام ورثاء کے حصے متعین کردئیے تھے اور مذکور بیٹے نے اصل کاروبار خود سنبھال کر بقیہ ورثاء کو ان کے حصوں کی بقدر قیمت دینا اپنے ذمہ لے لیا اور اس پر بقیہ تمام ورثاء بھی رضا مند تھے تو اس صورت میں مذکور بہن اور والدہ کے حصے کی رقم اس کے ذمہ قرض ہے لہٰذا اس کی ماں اس کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوکر نفع کی حقدار نہیں ہے بلکہ صرف اپنے حصے کی بقدر جو مالیت طے ہوئی تھی وہی لینے کی حقدار ہے اس سے زیادہ کی نہیں، جبکہ مذکور رقم کی زکوٰۃ اس وقت تک والدہ یا بہن پر لازم نہیں جب تک انہیں اتنی مقدار نہ پہنچ جائے جو بقدر نصاب ہو۔
فی الھندیة: واما سائر الدیون المقربھا فھی علٰی ثلاث مراتب ضعیف وھو کل دین ملکہ بغیر فعلہ لا بدلًا عن شیٔ نحو المیراث اور بفعلہ لا بدلًا عن شیٔ (إلی قولہ) لا زکوٰة فیہ عندہ حتی یقبض نصابًا ویحول علیہ الحول. (ج۱، ص۱۷۵) واللہ تعالٰی اعلم