زکوۃ و نصاب زکوۃ

پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71211
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر زکوٰۃ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) ایک شخص نے متعدد گاڑیاں لے رکھی ہیں اور وہ گاڑیاں پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پر چلتی ہیں مہینہ کے بعد مختلف بچت ہوتی ہے بعض اوقات بیس ہزار روپے اور بعض اوقات تیس ہزار روپے بچت ہوجاتی ہے اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس بچت پر سالانہ زکوٰۃ کس طریقے پر ادا کی جائے؟
(۲) ایک آدمی پرانی گاڑیاں خریدتا ہے اور اس پر خرچ وغیرہ کرکے آگے منافع کے ساتھ بیچ دیتا ہے تو اس کے زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو گاڑیاں پبلک ٹرانسپورٹ میں چلانے کی غرض سے خریدی گئیں ان کی اصل مالیت پر زکوٰۃ نہیں البتہ ان گاڑیوں سے حاصل شدہ آمدنی اس طرح وہ گاڑیاں جو بغرض تجارت خریدی گئیں ان کی کل مالیت پر اپنے نصاب کا سال پورا ہونے کے بعد دوسرے اموال زکوۃکے ساتھ ملاکر اس کل مال کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ مستحقین کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: ولا فی ثیاب البدن واثاث المنزل ودور السکنٰی وکذالک آلات المحترفین. (ج۲، ص۲۶۵)
وفی الدر: او فی عرض تجارة قیمتہ نصاب. (ج۲، ص۲۹۸)
وفی العالمگیریة: الزکاة واجبة فی عروض التجارة کائنة ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب. (ج۱، ص۱۷۹) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عتیق الرحمن احد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71211کی تصدیق کریں
1     771
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات