زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوٰۃ کی رقم تملیک کے بعد بھی مسجد میں خرچ نہیں کی جا سکتی ؟

فتوی نمبر :
71214
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوٰۃ کی رقم تملیک کے بعد بھی مسجد میں خرچ نہیں کی جا سکتی ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مالِ زکوٰۃ سے (براہِ راست) مسجد کی تعمیر درست نہیں، تو کیا تملیکِ صحیح بلا تحیل کرنے کے بعد بھی (کہ متملک زکوٰۃ مزکی کو حیلے یعنی ظاہری وصوری لین دین سے اولا، ابتداءً اجتناب کی تلقین کرے، اور خوب سمجھادے کہ بھئی! یہ مالِ زکوٰۃ اب میرا ملک بنے گا میں نے خود کھانا ہی ہے اور بس! مزکّی پوری تفصیل سمجھ کر کسی بھی شرط لگائے بغیر تسلیم کرکے نفی تحیل پر بھی، تملیکِ حقیقی پر بھی تاکیداً تصریح کرتے ہوئے یوں کہہ دے کہ بھئی! کوئی حیلہ میلہ نہیں، میں آپ ہی کو دے رہا ہوں جدھر بھی لگاؤ آپ کی مرضی میں نے تو حیلہ کا سوچا بھی نہیں)۔
کیا متملک جو شرعاً مستحق زکوٰۃ ہو بالکل بطیبِ خاطر اس مالِ زکوٰۃ کو مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں نہیں لگاسکتا؟
(طیبِ خاطر سے مراد یہ ہے کہ نہ تو مروّۃً اور نہ ہی کسی قید و شرط یا وعدے کی تکمیل کیلئے خرچ کرنا پڑے)
یا پھر عام جائز مصارف کی طرح مسجد و مدرسے کی تعمیر میں بھی لگاسکتا ہے؟
بعض عوام کو یہ شبہ لگا ہے کہ زکوٰۃ میں ملنے والا مال وسخِ مالی ہونے کی وجہ سے کسی بھی صورت میں مسجد میں نہیں لگایا جاسکتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مالِ زکوٰۃ اپنی ذات کے اعتبار سے متدنس نہیں نہ حقیقۃً اور نہ ہی حکماً، البتہ خلافِ قیاس بنصِّ قرآنی مال زکوٰہ کو چونکہ مطہر قرار دیا گیا ہے اس لئے اسے ضرورۃً وحکماً متدنس کہا جائے گا نہ کہ حقیقۃً تاہم چونکہ یہ حقیقۃً متدنس نہیں اس لئے تملیک صحیح کے بعد متملکِ زکوٰۃ کا اسے کسی مسجد و مدرسہ وغیرہ کی تعمیر میں صَرف کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے جبکہ عوام کا مذکور نظریہ از روئے شرع درست نہیں، بلا تحقیق اس قسم کے مسائل پھیلانے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی فتح القدیر: قلنا ألمال لیس بنجس لا حقیقةً ولا حکمًا إلّا أنّہ لمّا أدّی الفرض بہ تنجّس ضرورة أنہ صار مطھّرا بالنّص لسقوط الفرض بہ لقولہ تعالٰی خذ من أموالھم صدقةً تطھرھم فیبقٰی ما وراءہ علٰی ما یقتضیہ القیاس. اھـ (ج۲، ص۲۱۳، کفایة)
وفی الدّر: لا یصرف إلٰی بناء نحو مسجد ولا إلٰی کفن میّت وقضاء دینہ إلی قولہ وقدّمنا أن الحیلة أن یتصدق علی الفقیر ثم یأمرہ بفعل ھذہ الأشیاء. اھـ (ج۲، ص۳۴۴-۳۴۵) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اجمل شاکر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71214کی تصدیق کریں
0     1025
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات