زکوۃ و نصاب زکوۃ

عیدی کی رقم سے خریدے زیورات پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71216
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

عیدی کی رقم سے خریدے زیورات پر زکوٰۃ کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بسا اوقات گاؤں میں اس طرح ہوتا ہے کہ گھر والوں کی طرف سے یا کسی رشتہ دار کی طرف سے لڑکیوں کو عیدی وغیرہ یا کوئی خرچ ملتا ہے اور وہ اس کو خرچ نہیں کرتیں بلکہ جمع کرلیتی ہیں اور پھر ان پیسوں سے زیورات وغیرہ بنالیتی ہیں تو ان لڑکیوں کے اس مال پر زکوٰۃ ہے یا نہیں اگر ہے تو کب ہے کتنی ہے؟
اور اگرگھر والوں پر زکوٰۃ واجب ہو تو وہ ان لڑکیوں کے زیورات یا رقم وغیرہ کو ملاکر زکوٰۃ ادا کریں گے یا لڑکی کو خود ادا کرنی ہوگی؟ مہربانی فرماکر تفصیل سے بیان کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر وہ لڑکیاں نابالغ ہوں تو ان کی جمع شدہ نقدی اور زیورات وغیرہ میں زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وجوب زکوٰۃ کیلئے عاقل بالغ ہونا شرط ہے جو اس صورت میں مفقود ہے، اگر عاقل بالغ ہوں اور مذکور رقم اور زیورات وغیرہ بقدر نصاب ہوں تو ان پر خود ان اموال کی زکوٰۃ لازم ہوگی، جبکہ والدین پر ان کی زکوٰۃ کسی صورت میں بھی لازم نہیں، البتہ بلوغ کی صورت میں والدین بھی ان کی اجازت سے ان کے زیورات وغیرہ کی زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

والزکوٰة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابًا ملکًا تامًا وحال علیہ الحول. (ہدایة: کتاب الزکوٰة: ج۱، ص۱۶۷)
وشرط افتراضھا عقل وبلوغ واسلام وحریة، قولہ بلوغ قال فی البحر وخرج المجنون والصبی فلا زکوٰة فی مالہما کما لا صلوٰة علیہما للحدیث المعروف رفع القلم عن ثلاث. (طحطاوی: ج۱، ص۳۸۹)
وفی رد المحتار: فلا تجب علی مجنون وصبی لا عنہا عبادة محضة ویسا مخاطبین بھا. (ج۲، ص۲۵۸)
(وفی الھدایة) الزکوٰة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابا تامًا وحال علیہ الحول لقولہ علیہ السلام لا زکوٰة فی مال حتی یحول علیہ الحول رواہ ابن ماجة عن عائشة رضی اللہ عنہا ولیس علی الصبی والمجنون زکوٰة. (۱۴۳-۱۴۴)
(وسبب افتراضھا (ملک نصاب حولی) (تام) در مختار – وفی رد المحتار – وشرطہ) ای شرط افتراض ادائھا (حولان الحول) وھو فی ملکہ) ای والحال ان نصاب المال فی ملکہ التام کما مر والشرط تمام النصاب فی طرفی الحول. (ج۲، ص۲۶۷) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدرفیق یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71216کی تصدیق کریں
0     518
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات