کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ (۱) گندم، اناج وغیرہ کی تملیک کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ (۲) مہتمم مدرسہ کی پکی ہوئی روٹی کھاسکتا ہے؟ (۳) پھل مثلاً آم، بیر وغیرہ میں یہ ہوتا ہے کبھی ایک دو پھل توڑ لیا کھالیا کیا اس ایک دو کا بھی حساب کرکے عشر ادا کریں گے؟ اگر اس کا ادا کرنا ضروری ہے تو یہ مشکل ہے کہ گِر جاتے ہیں یا توڑ لیا جاتا ہے پھر اسکا حساب میں رکھنا پھر مستحق کو اتنا تھوڑا سا دینا اور مستحق کو تلاش کرنا اس کی کوئی آسان صورت ہو تو بیان فرمادیں، کیا تھوڑی سی چیز میں بھی عشر ہے یا کوئی مقدار مقرر ہے؟ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمٰن!
(۱) اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کسی مستحق کو بغیر کسی عوض وغیرہ کے گندم وغیرہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ دے دیا جائے اس طور پر کہ وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف بھی کرسکتا ہو۔
(۲) اگر صاحب نصاب نہ ہونے کیو جہ سے مستحق زکوٰۃ ہو تو مال زکوٰۃ سے تیار شدہ کھانے سے مہتمم بھی کھاسکتا ہے ورنہ احتراز لازم ہے۔
(۳) اس کا کوئی عشر نہیں۔
کما فی الرد: وفی شرح الملتقی عن المضمرات إذا أكل قلیلًا بالمعروف لا شیٔ علیه قال الفقیه وبه نأخذ. (ج۲، ص۳۳۲)