السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میراسوال یہ ہے کہ میں اپنے بیوی بچوں سمیت اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہوں ، تھوڑے پیسے جمع کر کے مشکل سے نقد آٹھ لاکھ اکھٹے کیے ہیں، کہ اپنے بچوں کے لئے پلاٹ یا اگر اللہ نے ہمت دی تو گھر لینا ہے، جناب سے پوچھنا یہ ہے کہ اس مقصد کیلئے رکھی ہوئی پیمنٹ پر زکوۃ ہوگی ؟ آپ سے گزارش ہے کہ صحیح رہنمائی فرمائیں۔
سائل کے پاس موجود رقم چونکہ بقدر نصاب ہے، لہذا مذکور رقم اگر چہ بچوں کیلئے گھر یا پلاٹ خریدنے کیلئے رکھی ہو، اگر اس پر ایک قمری سال گزرچکا ہویا سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو مذکور رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہوگی۔
کما فی الدر المختار: (وسببہ) أی سبب افتراضھما (ملک نصب مولی) نسبۃ للحول لحولانہ علیہ (تام) بالرفع صفۃ الملک الخ
وفیہ ایضاً: (وسبب لزوم أدائھا توجہ الخطاب) یعنی قولہ تعالی آتوا الزکوۃ (وشرطہ) أی شرط افتراض ادائھا (حولان الحول) وھو فی ملکہ (وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر) لتعینھما للتجارۃ الخ (کتاب الزکوۃ ج 2 صـ 269-269 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: (ومنھا الملک التام) وھو مااجتمع فیہ الملک والید وأما إذا وجد الملک دون الید کالصداق قبل القبض أو وجد الید دون الملک کملک المکاتب والمدیون لا تجب فیہ الزکوۃ الخ (کتاب الزکوۃ ج 1 صـ 172 ط: ماجدیۃ)