زکوۃ و نصاب زکوۃ

سید افراد كی تنظیم كا زكوٰۃ و صدقات وصول كرنے كا حكم

فتوی نمبر :
71270
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سید افراد كی تنظیم كا زكوٰۃ و صدقات وصول كرنے كا حكم

سید خاندان كے بعض افراد نے اپنے مسائل كے حل اور باہمی اتفاق واتحاد کی خاطر ایک رفاہی تنظیم کا قیام عمل میں لایا ہے جس کو خدمت خلق کمیٹی سے موسوم کیا ہے، جس کے اغراض و مقاصد میں فکری و ذہنی اصلاح کیلئے عالمی مجالس کا انعقاد، مفت ٹیوشن سینٹر یا کم فیس پر ٹیوشن سینٹر قائم کرنا، مریض اور حادثہ کے شکار لوگوں پر قرض یا عطیہ کے طور پر فنڈ خرچ کرنا اور آسان اقساط میں وصول کرنا، باروزگار لوگوں سے قلیل مقدار میں چندہ وصول کرنا، تعلیمی اور سماجی ترقی کی بھرپور جدوجہد کرنا، گروہ بندی، نسلی امتیاز اور انتشار کو ختم کرنا ہے۔
مذکورہ اغراض و مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے آیا کمیٹی قربانی کی کھالیں لینے کی اہل ہے اور نیز زکوٰۃ و صدقات لینے کی مجاز ہے؟ جواب عنایت فرماکر مشکور فرمائیں۔
نوٹ: کمیٹی میں اکثریت سید خاندان کی ہے دوسری قوم کے لوگ اقلیت میں ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور سید حضرات کی تنظیم اگر اپنی سید برادری کے مفلس و نادار اور مستحقین کی ضروریات پورا کرنے کی خاطر چرم قربانی، زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ وصول کرنا چاہتی ہے تو اس صورت میں اُن کیلئے یہ رقوم لینا قطعاً جائز نہیں، کیونکہ جن مستحقین کیلئے یہ رقوم وصول کی جارہی ہیں ان کیلئے زکوٰۃ وغیرہ لینا جائز نہیں لہٰذا مذکور چرمِ قربانی کی جتنی رقم بنتی ہے یہ غیر سید فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا لازم ہے۔
البتہ مذکور تنظیم اگر نفلی صدقات و عطیات کی رقوم سید برادری کے غرباء کیلئے وصول کرکے اُن پر خرچ کرنا اور دیگر رفاہی امور بجا لانا چاہے تو یہ امر بلاشبہ موجب اجر و ثواب ہے اور انہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر: أی مصرف الزكاة والعشر هو فقیر وهو من له ادنٰی شیٔ أی دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة ومسكین من لا شیٔ له. الخ (ج۲، ص۳۳۹) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی نادر جان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71270کی تصدیق کریں
0     598
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات