زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم کو وکیل کا اپنے اوپر خرچ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
71271
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم کو وکیل کا اپنے اوپر خرچ کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کیلئے دوسرے شخص کو وکیل بنایاا ور کہا کہ اس کو مستحقینِ زکوٰۃ کو دے دینا لیکن اس وکیل نے وہ زکوٰۃ اپنے آپ کو مستحقِ زکوٰۃ سمجھتے ہوئے خود اپنے اوپر خرچ کرلی ،تو کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوتی ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایسی صورت میں وکیل کا اس رقم کو اپنے اوپر خرچ کرنا جائز نہیں اور اس سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوئی اس پر اپنے مال کی دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے جبکہ مذکور وکیل مزکی کیلئے اتنی رقم کا ضامن ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وللوكیل أن یدفع لولده الفقیر وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها ضعها حیث شئت. (الدر المختار: ج۲، ص۲۶۹)
وللوكیل بدفع الزكاة أن یدفعها إلی ولد نفسه كبیرا كان أو صغیرا وإلی امرأته إذا كانوا محاویج ولا یجوز أن یمسك لفنسه شیئا. اهـ إلا إذا قال ربھا ضعها حیث شئت فله أن یمسكها لنفسه. (بحر الرائق: ج۲، ص۲۱۱)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ریحان وزیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71271کی تصدیق کریں
0     1195
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات