میں اپنے بھائی کو جو کہ معاشی طور پر کمزور ہیں ،مکان کی تعمیرات کے سلسلے میں کچھ رقم بطورِ قرض دینا چاہتی ہوں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں ان کو یہ رقم نہ دوں ،تو گھر میں فتنہ فساد کا قوی اندیشہ ہے ، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ میں ان کو جتنی رقم بطورِ قرض دے رہی ہوں وہ ناکافی ہے ، لہٰذا اس میں زکوٰۃ کی رقم بھی شامل کرکے دے سکتی ہوں؟
اور جب یہ رقم مجھے واپس ملے گی ،تو میں زکوٰۃ کی رقم کو حقیقی مصارفِ زکوٰۃ میں ادا کردوں گی ،گویا عارضی طور پر میں اپنے بھائی کو خالص رقم کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم شامل کرکے بطورِ قرض دے سکتی ہوں یا نہیں؟ جبکہ بھائی زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں۔
اگرچہ وجوبِ زکوٰۃ کے بعد اس کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں موجب گناہ و عقاب ہے ، تاہم جب ادائیگی کی نیت بہرحال قائم ہے اور بھائی کو بطورِ قرض دینے کی وجہ سے اس کے لوٹانے تک محض تاخیر مقصود ہے اور مذکور طریقہ کے موافق تعاون نہ کرسکنے کی وجہ سے خاندان میں فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو ، تو اس صورت میں تاخیر کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
تاہم اس صورت میں بھی سائلہ کو چاہئے کہ بجائے زکوٰۃ کی رقم دینے کے خالص رقم دینے کا اہتمام کرے ،، تاکہ ادائیگی زکوٰۃ بلا تاخیر ہوسکے۔
کما فی الدر المختار: وافتراضها عمری وقیل فوری ای واجب علی الفور وعلیه الفتوی كما فی شرح الوهبانیة فیأثم بتأخیرها بلا عذر وترد شهادته الخ
وفی رد المحتار: فیصیر المعنی أدائها المفترض واجب علی الفور ای أن أصل الأداء فرض وكونه علی الفور واجب وهذا ما حققه فی فتح القدیر من أن المختار فی الأصول ان مطلق الأمر لا یقتضی الفور ولا التراخی بل مجرد الطلب فیجوز للمكلف كل منهما لكن الأمر هنا معه قرینة الفور الخ ما یأتی (ج۲، ص۳۷۱ – ۳۷۲)
وفی الهندیة: وتجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتأخیره من غیر عذر وفی روایة الرازی علی التراخی حتی یأثم عند الموت والاوّل اصح كذا فی التهذیب (ج۱، ص۱۷۰)