کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام بیچ اس مسئلہ کے (۱) ایک صاحب فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ مدرسہ میں پڑھنے والے نابالغ بچوں پر نہیں لگتی کیونکہ زکوٰۃ کیلئے قبولیت شرط ہے اور یہاں پر وہ شرط معدوم ہے لہٰذا اس طرح زکاۃ دینا صحیح نہیں؟
(۲) اور دوسری صورت یہ بیان کرتے ہیں کہ جتنے مسافر طلبہ کرام مدرسے میں زیر تعلیم ہیں کیا ان کے والدین کو یہ بات معلوم ہے کہ بچوں پر زکوٰۃ کے مد میں سے خرچ کیا جارہا ہے یا آپ نے صرف طلبہ کو یہ بات کہی ہے کہ یہ خرچ زکوٰۃ کی مد میں سے ہے آیا اس کا بتادینا ضروری ہے یا نہیں؟ حدیث کی روشنی میں مدلل ومفصل بحوالہ کتب جواب عنایت فرمادیں۔ جزاکم اللہ فی الدارین
جس مدرسہ کا منتظم طلبہ کی طرف سے وکیل ہو تو اس کا قبضہ طلبہ کا ہی قبضہ شمار ہوتا ہے تاہم شروع داخلہ کے وقت عاقل و بالغ مستحق طلبہ سے خود ان کی مرضی سے اور نابالغ طلبہ کے سرپرستوں سے جو مستحق زکوٰۃ بھی ہوں انتظامیہ کے حق میں وکالت کی صراحت بھی کروالی جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے اور پھر بصورتِ ممکن زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ جیسی مدات کی رقوم انہیں مصارف میں خرچ کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم