کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) اپنی زکوٰۃ و عشر و صدقات واجبہ بوقتِ ضرورت تملیک کراکر اپنے استعمال میں لانا جائز ہے یا نہیں؟ بندہ نے اپنا چھوٹا ادارہ کھولا ہوا ہے اور وسائل نہ ہونے کی بناء پر اپنا عشر و زیورات کی زکوٰۃ بعد التملیک اپنے مصرف میں لاسکتا ہے یا نہیں؟
اگرچہ کسی مستحقِ زکوٰہ کو باضابطہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ صدقاتِ واجبہ اور زکوٰۃ کی رقم وغیرہ دینے کے بعد اگر وہ مستحق اپنی مرضی سے کسی موقع پر کل رقم یا اس کا کچھ واپس کردے تو لینے والے کیلئے اس کا استعمال جائز ہے مگر اس کو اپنی زکوٰۃ خود کھانے کیلئے حیلہ بنالینا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
وفی الشامیة: وقدمنا أن الحیلة أن یتصدق علی الفقیر ثم یأمره بفعل هٰذه الاشیاء وهل له أن یخالف أمره لم أره والظاهر نعم. (ج۲، ص۳۴۵) والله اعلم بالصواب