السلام علیکم! میرا ایک بینک اکاؤنٹ ہے، میں ہر سال یکم رمضان المبارک کو اپنی زکوة کا حساب لگاتا ہوں، میرے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم پر زکوة کیسے ادا کی جائے؟ مثال کے طور پر عرض ہے کہ پچھلے سال اگر میرے بینک اکاؤنٹ میں 5 لاکھ روپے تھے اور اس سال ۳ لاکھ روپے ہیں تو میں کتنی رقم پر زکوة ادا کروں گا ؟ میں نےایک اور جگہ سے سنا تھا کہ پورے سال میں جو سب سے کم رقم ہوگی اس رقم پر زکوة ادا کرنی ہوگی، مہربانی فرما کر قرآن وسنّت اورشریعت کی روشنی میں تفصیل سے جواب دیں۔ والسلام!
ہر یکم رمضان المبارک کو سائل کی ملکیت میں اموال زکوۃ (سونا، چاندی، مال تجارت اور نقدی) میں سے بقدرِ نصاب جو کچھ موجود ہو، تو اس پر ڈھائی فیصد زکوۃ لازم ہوگی، خواہ سال کے درمیان کچھ مال خرچ ہوجائے، اس کا اعتبار نہیں۔
کما فی الدرالمختار: (وشرط کمال النصاب) ولو سائمۃ (فی طرفی الحول) فی الابتداء للانعقاد وفی الانتہاء للوجوب (فلا یضر نقصانہ بینھما) فلو ھلک کلہ بطل الحول الخ (ج2 صـ302 کتاب الزکاۃ باب زکاۃ المال ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: (ومنھا حولان الحول علی المال) العبرۃ فی الزکاۃ للحول القمری کذا فی القنیۃ واذا کان النصاب کاملا فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذلک لایسقط الزکاۃ کذا فی الھدایۃ الخ (ج1 صـ175 کتاب الزکاۃ ط: انعامیۃ)۔