میرے پاس ساڑھے تین تولہ سونا موجود ہے،لیکن پانچ لاکھ روپے لوگوں کو قرضِ حسنہ دیا ہے،اور اپنے ستر لاکھ کے ذاتی گھر میں میں رہتا ہوں،65000 ماہانہ پنشن ہے،مجھے زکوۃ کی ادائیگی کے بارے میں بتائیں ؟ جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ صاحبِ نصاب ہے،اس لیے زکوۃ کی تاریخ میں سائل کی ملکیت میں جو کچھ نقدی اور سونا موجود ہوگا،اور جو رقم سائل نے قرضِ حسنہ کے طور پر لوگوں کو دی ہے،ان سب کی زکوۃ سائل کے ذمہ لازم ہوگی،تاہم قرض کی رقم جب تک وصول نہ تو تب تک سائل کے ذمہ اس کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہ ہوگا،بلکہ رقم وصول ہونے کے بعد گزشتہ پورے عرصے کی زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی،البتہ اگر سائل زکوۃ کی تاریخ میں قرض پر دی ہوئی رقم کی بھی زکوۃ دیدینا چاہےتو یہ زیادہ بہتر و اولی ہوگا ۔
وفی الدر المختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب الخ (ج2 ص259 کتاب الزکوۃ)۔
وفیہ أیضاً: (ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح) لوجود السبب الخ (ج2 ص293 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة الخ (ج1 ص178 کتاب الزکوۃ،الباب الثالث ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي الخ (ج1 ص179 کتاب الزکوۃ،الباب الثالث ط: ماجدیۃ)۔
وفی البحرالرائق: وإذا تم الحول علی الدین لایلزمہ الاداء من المستفاد مالم یقبض أربعین درھما الخ (ج2 ص208 کتاب الزکوۃ ط: ماجدیۃ)۔