السلام علیکم!
میرا سوال زکوٰۃ کے بارے میں ہے ، مجھے یہ پوچھنا تھا کہ میرا ابو پولیس میں ہے ،اور میں بے روز گار ہوں اور میں شادی شدہ ہوں ،میرا ایک بیٹا بھی ہے ،میری بیوی کو 12 تولہ سونا جہیز میں ملا تھا ،اور میرے پاس کیش پیسہ نہیں ہے اور نہ ہی میری بیوی کے پاس ،ہمارا گھر کا ساراخرچہ ابو دیتا ہے، یہاں تک کہ میری بیوی اور مجھے بھی ،اور ابو مجھےکہتے ہیں کہ میں ڈیوٹی پر ہوتا ہوں آپ گھر پر رہو،کہیں باہر کام کرنے نہ جاؤ، تو اب کیا مجھے کماکر زکوٰۃاداکرنا چاہیئے یا انتظارکروں جب کوئی اچھا روزگار لگے پھر خود کے پیسوں سے زکوٰۃ ادا کروں، براہ مہربانی مجھے بتائیں،سوال میں کچھ باتیں فضول لگی ہوں تو معذرت۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور بارہ تولہ سونے کی زکوٰۃ سائل کی بیوی پر لازم ہے ، سائل پر نہیں ، چنانچہ اگر زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے قرض وغیرہ کر کے پیسوں کا بندوبست ہو سکتا ہو تو ٹھیک ،ورنہ سونا بیچ کر اس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ، اس میں تا خیر سے کام لینا درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے
کما فی الدرالمختار: هي تمليك جزء مال عينه الشارع من مسلم فقيرغير هاشمي ولا مولاه مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه اللہ تعالى الخ(کتاب الزکاۃج2ص256 ط:سعید)
وفی الھندیۃ: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة(الباب الثالث فی زکاۃالذھب والفضۃ والعروض ج1 ص178 ط:ماجدیہ)۔