مجھے زکوٰۃ کے حوالے سے کچھ وضاحت درکار ہے، میں متحدہ عرب امارات میں رہتا ہوں اور میرے پاس کراچی میں قسط پر 2 گھر ہیں اور آدھی قسط ابھی باقی ہے، دونوں کرائے پر ہیں،میں نے انہیں بچت کے مقصد کے لیے خریدا ہے اور قسط مکمل ہونے کے بعد فروخت کر دوں گا اور اس رقم سے ایک بہتر علاقے میں خرید کر دوبارہ کرائے پر رکھ دوں گا، کیا مجھ پر ان کی زکوٰۃ واجب ہے؟ میرے پاس کچھ نقدی اور سونا بھی ہے۔
سائل نے دو گھر اگر آگے بیچنے کی نیت سے خریدے ہوں ، تو ایسی صورت میں ان گھروں کی مالیت پر زکوٰۃ لازم ہوگی، چنانچہ زکوٰۃ کی تاریخ میں ان مکانات اور سائل کے پاس موجود سونے کی جو موجودہ مارکیٹ ریٹ ہوگا، اس کو نقدی کے ساتھ ملا کر مجموعی مالیت میں سے سائل کے ذمہ واجب الاداء قسطیں منھا کرنے کے بعد بقیہ مالیت پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية اھ (کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 179، ط: ماجدیہ)۔
و فیہا ایضاً: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة اھ (کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 178، ط: ماجدیہ)۔