السلام علیکم ! میں نے ایک نیا جنریٹر خریدا ، لیکن وہ ایک سال سے استعمال نہیں ہوا (90000 روپے کی مالیت ہے ) کیا میں وہ جنریٹر زکوٰۃ کی مد میں کسی زکوٰۃ کے مستحق کو دے سکتا ہوں ؟
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص استعمال شدہ سامان بطورِ زکوٰۃ کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے ، البتہ بطورِ زکوٰۃ دئیےجانے والے سامان کی قیمتِ خرید کا اعتبار نہیں ہوگا ، بلکہ اس کی اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا ، لہٰذا سائل کےلئے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ کی مد میں جنریٹر دینا جائز ہے ، تاہم زکوٰۃ دیتے وقت اس استعمال شدہ جنریٹر کی مارکیٹ میں جو قیمت ہوگی اس کے بقدر سائل کے ذمہ سے زکوٰۃ ساقط ہوگی ،جنریٹر کی قیمتِ خرید کے اعتبار سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی ۔
کمافی بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى المؤدي فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه والأصل أن كل مال يجوز التصدق به تطوعا يجوز أداء الزكاة منه وما لا فلا اھ (ج2، صـــ41، ط:سعید)۔