زکوۃ و نصاب زکوۃ

کسی مستحق کو جنریٹر زکوۃ کی مد میں دینے کا حکم

فتوی نمبر :
71473
| تاریخ :
2024-03-05
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کسی مستحق کو جنریٹر زکوۃ کی مد میں دینے کا حکم

السلام علیکم ! میں نے ایک نیا جنریٹر خریدا ، لیکن وہ ایک سال سے استعمال نہیں ہوا (90000 روپے کی مالیت ہے ) کیا میں وہ جنریٹر زکوٰۃ کی مد میں کسی زکوٰۃ کے مستحق کو دے سکتا ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی شخص استعمال شدہ سامان بطورِ زکوٰۃ کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے ، البتہ بطورِ زکوٰۃ دئیےجانے والے سامان کی قیمتِ خرید کا اعتبار نہیں ہوگا ، بلکہ اس کی اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کا اعتبار ہوگا ، لہٰذا سائل کےلئے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ کی مد میں جنریٹر دینا جائز ہے ، تاہم زکوٰۃ دیتے وقت اس استعمال شدہ جنریٹر کی مارکیٹ میں جو قیمت ہوگی اس کے بقدر سائل کے ذمہ سے زکوٰۃ ساقط ہوگی ،جنریٹر کی قیمتِ خرید کے اعتبار سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى المؤدي فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه والأصل أن كل مال يجوز التصدق به تطوعا يجوز أداء الزكاة منه وما لا فلا اھ (ج2، صـــ41، ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71473کی تصدیق کریں
0     658
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات