زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار کیےلیے ہوئے قرض پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
71493
| تاریخ :
2024-03-06
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کاروبار کیےلیے ہوئے قرض پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ برکاتہ !
مفتی صاحب میں نے ایک کروڑ اسی لاکھ میں ایک ٹرالر گاڑی خریدی ،جس میں سے میں نے تیس لاکھ نقد روپے دیے بقیہ ہر مہینے ایک لاکھ قسط دیتا رہتا ہوں ،اب میرے پاس تیس لاکھ نقد بھی موجود ہیں جو میں نے اسی گاڑی کے ذریعے کمائے ہیں، اور آج تک جتنے قسط آئے , میں نے ادا کیے ہیں ،جبکہ آئندہ کیلئے میرے ذمہ چالیس لاکھ یعنی ہر مہینے ایک لاکھ بالترتیب قسطوار ادا کرنے ہیں ،میں اسی گاڑی سے کماتا ہوں ،اور اس سے قسط اداکرتا رہتا ہوں ،اور گاڑی الحمداللہ آٹھ لاکھ سے اوپر اوپر ماہانہ کماتا رہتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے ذمے زکوۃ اور حج کا کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت کل قرض کی رقم میں سے صرف وہ اقساط منہا کی جائیں گی جو کہ آئندہ سال تک واجب الادا ہوں ،چنانچہ اسی قدر رقم منہا کر نے کے بعد جو مال بچ جائے اگر وہ خود یا دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ شامل کر نے کے بعد اس کی مجموعی مالیت ساڑے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جاتی ہو ، تو اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی مد میں ادا کرنا لازم ہو گا ، جبکہ حج کے واجب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ضروریات زندگی کے لئے درکار وسائل اور اہل وعیال کے واجبی اخراجات پورا کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کے ضروری اخراجات اور آنے جانے کاخرچہ پورا ہو سکتا ہو تو حج لازم ہوگا ،ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم(باب زکوٰۃ المال ج2 ص305 ط:سعید)۔
وفی الھدایہ: الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا " وصفه بالوجوب الخ(کتاب الحج ،ج1 ص132 ط: دار احياء التراث العربي بيروت لبنان)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71493کی تصدیق کریں
0     655
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات