زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے کے ساتھ کچھ نقدی کی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کا حکم

فتوی نمبر :
71502
| تاریخ :
2024-03-06
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے کے ساتھ کچھ نقدی کی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کا حکم

السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ 2015 میں میری شادی ہوئی میری بیگم کو سسرال اور میکے کی طرف سے تقریبا 2 تولہ سونا ملا اور چھ ماہ بعد ہم نے تقریبا 1 تولہ خریدا ،سال 2021میں ایک اسکیم آئی جس کا مجھے پلاٹ ملا جو میں نے بیچ کر 3 لاکھ اسی ہزار لیا۔2021 میں میرے پاس 5 لاکھ ہوگئے پلاٹ کے پیسے ملا کراب میرے پاس 8 لاکھ کے قریب نقدی اور زیور جو اوپر بیان کیا ہے وہ موجود ہے۔میرے اوپر ٹوٹل کتنی زکوۃ واجب ہے؟اور میرا انشاءاللہ اسی سال عمرہ کا بھی ارادہ ہے انہی پیسوں سے , کیا وہ نکال کر زکوۃ دوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی شادی کے موقع پر اس کی بیوی کو ملنے والا دو تولہ سونا اسی طرح شادی کے چھ ماہ بعد خریدا جانے والا ایک تولہ سونا اگر سائل کی بیوی کو ملکیتاً دیدیا گیا ہو ، تو سائل کی بیوی اس سونے کی مالک تصور کی جائیگی ، اگر اس کی ذاتی ملکیت میں اس سونے کے علاوہ کچھ رقم (اگر چہ معمولی مقدار میں کیوں نہ ہوں )موجود ہو تو دونوں (سونے کی قیمت اور کیش رقم )کی مجموعی مالیت چونکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے متجاوز ہو جاتی ہے ، اس لئے شادی کےایک سال بعد سے اب تک اس کے ذمہ گزشتہ تمام سالوں کی ادائیگئِ زکوۃ لازم ہوگی ، جبکہ سائل بذات خود اگر پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو بلکہ 2021 میں اس اسکیم کے تحت ملنے والا پلاٹ فروخت کرنے کے بعد صاحب نصاب بن چکا ہو ، تو اس پلاٹ کی مد میں ملنے والی رقم مبلغ 380000 روپے قبضہ میں آنے کے بعد سائل صاحب نصاب بن چکا ہے اور اس رقم پر قمری سال مکمل ہونے کے بعد ادائیگئِ زکوۃ بھی لازم تھی ،لہذا سائل نے اگر گزشتہ سالو ں کی زکوۃ ادا نہ کی ہو تو اس پر بھی گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے ، جبکہ مستقبل میں عمرہ کے لئے جانے کے اخراجات اب ادائیگئِ زکوۃ کے وقت شرعاً منہا نہیں کیے جاسکتے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: :(ھی) لغۃ الطھارۃ والنماء وشرعا(تملیک)(الی قولہ)(جزء مال) خرج المنفعۃ(الی قولہ)(عینہ الشارع)وھو ربع عشر نصاب حولی الخ(ج 2 ص 257 ط:سعید )۔
وفی رد المحتار:تحت(قولہ ویضم)ای عند الاجتماع (الی قولہ)وفی البدائع : ایضا ان ما ذکر من وجوب الضم اذا لم یکن کل واحد منھما نصابا الخ ( ج 2 ص 303 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: لو جھز ابنتہ وسلمہ الیھا لیس لہ فی الاستحسان استردادہ منھا وعلیہ الفتوی الخ (ج 1 ص 327 ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71502کی تصدیق کریں
0     549
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات