السلا م علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میری ملکیت میں دو پلاٹس ہیں،میں ایک صاحب کا کافی بڑی مقدار کا مقروض بھی ہوں،پہلا پلاٹ خریدتے وقت سوچا تھا کہ یا تو اس پر گھر بنادونگا(اگر اچھے حالات ہوئے)یا پھرجب اس پلاٹ کی مناسب قیمت ملےتو اس رقم سے میں قرض اتاردونگا،ابھی تک نہ اس صاحب نے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے،اور نہ مناسب قیمت ملی ہے،دوسرا پلاٹ اس نیت سے خریدا تھاکہ یہ فروخت کرکے کسی دوسری جگہ پلاٹ لے کر اس پر ذاتی گھر بناؤنگا،براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا ان پلاٹس پر زکوۃ دینی ہوگی کہ نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق پہلا پلاٹ خریدتے وقت چونکہ سائل کی نیت حتمی طور پر اسے فروخت کرنے کی نہیں تھی،اس لئے اس پلاٹ کی مالیت پر سائل کے ذمہ زکوۃ لازم نہ ہوگی،البتہ دوسرا پلاٹ خریدتے وقت سائل کی نیت چونکہ حتمی طور پر اس کے فروخت کرنے کی تھی ،اس لئے اگر یہ نیت زکوۃ کی تاریخ تک برقرار رہے،تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ اس پلاٹ کی مالیت پر بھی زکوۃ لازم ہوگی،بشرطیکہ سائل کے ذمہ واجب الادا قرضے کو منہا کرنے کے بعد مذکور پلاٹ اور دیگر اموالِ زکوۃ (سونا،چاندی،اور نقدی میں سے جو کچھ موجود ہو ان کی)مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہو،ورنہ سائل کےذمہ زکوۃ لازم نہ ہوگی۔
کما فی الدرالمختار: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. أقول: إنه خرج باشتراط الحرية على أن المطلق ينصرف للكامل، ودخل ما ملك بسبب خبيث كمغصوب خلطه إذا كان له غيره منفصل عنه يوفي دينه (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاةوخراج أو للعبد الخ (ج2 ص259/260 ط: کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء الخ(ج2 ص267 ط: کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفی ردالمحتارتحت(قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم الخ (ج2 ص262 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔